امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اس وقت شدید مشکلات سے دوچار ہے اور امریکا ایران میں جاری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت استعمال کی تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے، تاہم اس مداخلت میں زمینی فوج اتارنا شامل نہیں ہوگا۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے روسی صدر پیوٹن کو ’اغوا‘ کرنے کے سوال پر کیا جواب دیا؟
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت نے برسوں اپنے عوام کے ساتھ برا سلوک کیا اور اب عوامی ردِعمل کی صورت میں اس کی قیمت چکائی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض ایرانی شہروں میں عوام نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جو چند ہفتے قبل ناقابلِ تصور تھا۔
دوسری جانب ایران نے اقوامِ متحدہ میں امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پُرامن احتجاج کو پُرتشدد اور تخریبی سرگرمیوں میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے کہا کہ واشنگٹن اور تل ابیب ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کرکے عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق دسمبر کے آخر سے شروع ہونے والے مظاہرے معاشی بدحالی، کرنسی کی قدر میں کمی اور مغربی پابندیوں کے باعث شدت اختیار کر گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق اب تک سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار ہو چکے ہیں، جبکہ ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل رہی۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ نے انسداد بدعنوانی کے لیے نیشنل اینٹی فراڈ ڈویژن قائم کردیا
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا ایسے اقدامات کرے گا جو ایران کو وہاں ضرب لگائیں گے جہاں سب سے زیادہ اثر ہو، اور اس تمام صورتحال کو دنیا بہت قریب سے دیکھ رہی ہے۔













