پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تجارتی تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ تجارتی کمیٹی جے ٹی سی کے قیام کا معاہدہ طے پا گیا۔
پاکستان اور انڈونیشیا نے دوطرفہ تجارت بڑھانے اور ادارہ جاتی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
مزید پڑھیں: صدر مملکت نے انڈونیشیا کے صدر کو ’نشان پاکستان‘ سے نواز دیا
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور انڈونیشیا کی نائب وزیر تجارت کی قیادت میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کامیاب رہے، مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام سے تجارتی مسائل اور مواقع پر باقاعدہ مشاورت ممکن ہو سکے گی۔
پاکستان نے جکارتہ میں سنگل کنٹری نمائش اور بزنس فورم کے انعقاد کا اعلان کیا، اور انڈونیشیا نے پاکستانی معدنیات، دواسازی، کاسمیٹکس اور زرعی اجناس کی فراہمی میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔
دونوں ممالک نے ترجیحی تجارتی معاہدے کو وسعت دے کر جامع اقتصادی شراکت داری کی جانب پیش رفت پر اتفاق کیا۔
انڈونیشیا کی جانب سے پاکستانی پھل، چاول اور صنعتی آلو کے لیے بہتر مارکیٹ رسائی پر غور کی یقین دہانی کرائی گئی۔
وفاقی وزیر تجارت جامل کمال نے پام آئل کو پاکستان کی غذائی ضروریات کا اہم جزو قرار دیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور انڈونیشیا کا ترجیحی تجارتی معاہدے پر نظر ثانی پر اتفاق
پاکستان اور انڈونیشیا نے 4 ارب ڈالر سے زیادہ دوطرفہ تجارت کو مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔














