ایران میں جاری شدید حکومت مخالف مظاہروں کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے امکان پر سنجیدہ غور شروع کر دیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کو فوجی آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے، تاہم حتمی فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا، جبکہ خطے میں کشیدگی کے پیشِ نظر اسرائیل نے بھی اپنی سیکیورٹی الرٹ بڑھا دی ہے۔
Israel has gone on high alert over the possibility the United States could intervene in Iran as authorities confront the biggest anti-government protests in years, Reuters cited three Israeli sources with knowledge of the matter as saying on Sunday.
US President Donald Trump has… pic.twitter.com/ClPj303CfY
— Iran International English (@IranIntl_En) January 11, 2026
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملوں سے متعلق بریفنگ دی گئی، جس کے بعد تہران میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے امکان پر سنجیدگی سے سوچا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ابھی ایران پر حملوں کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم وہ ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہروں کو دبانے کی کوششوں کے ردعمل میں فوجی کارروائی کی اجازت دینے پر غور کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا سے معاہدہ کرنے کے لیے ’بے تاب‘ ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
یاد رہے کہ ایران میں پرتشدد مظاہرے مسلسل تیرہویں روز بھی جاری ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اب تک جھڑپوں میں 15 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ایک امریکی جریدے نے اموات کی تعداد 200 سے زائد بتائی ہے۔
صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایرانی قیادت کو خبردار کیا تھا کہ اگر مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا، اور یہ بھی کہا تھا کہ امریکا ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے۔
اسرائیل ہائی الرٹ پر
ایران میں جاری بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں اور امریکا کی ممکنہ مداخلت کے خدشے کے باعث اسرائیل نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی سیکیورٹی اداروں نے احتیاطی اقدامات سخت کر دیے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس ہائی الرٹ کی عملی شکل کیا ہے۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی مشاورت کے دوران خطے کی صورتِ حال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، خاص طور پر اس تناظر میں کہ اسرائیل اور ایران ماضی قریب میں 12 روزہ جنگ کا سامنا کر چکے ہیں۔
مزید برآں ایک اسرائیلی ذریعے نے بتایا کہ ہفتے کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان فون پر گفتگو ہوئی، جس میں ایران میں امریکا کی ممکنہ مداخلت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی حکام نے کال کی تصدیق تو کی، تاہم بات چیت کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:لندن میں ایرانی سفارتخانے پر احتجاج، مظاہرین نے اسلامی جمہوریہ کا پرچم اتار دیا، ویڈیو وائرل
خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے، جبکہ ایران، امریکا اور اسرائیل سے جڑے ممکنہ فیصلوں کو مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔













