مظاہروں کے دوران امریکا ایران کیخلاف فوجی اقدامات پر غور کررہا ہے، سی این این کا دعویٰ

پیر 12 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں مختلف ممکنہ فوجی اور غیر فوجی اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

سی این این کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کو حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف مداخلت کے مختلف منصوبوں پر بریفنگ دی گئی، جن میں تہران کی اُن سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے آپشنز بھی شامل ہیں جو مظاہروں کو دبانے میں استعمال ہو رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ایران میں احتجاجی مظاہرے جاری: امریکا اور اسرائیل فسادات کرا رہے ہیں، عوام دور رہیں، صدر مسعود پزشکیان

صدر ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ ایران نے ہفتے کے روز مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت امریکا سے بات چیت چاہتی ہے اور ان کی سب سے بڑی تشویش مظاہرین کے خلاف تشدد ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مظاہرین کے قتل کا سلسلہ جاری رہا تو امریکا انتہائی سخت آپشنز پر فیصلہ کر سکتا ہے، تاہم ایران میں زمینی افواج بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

حکام کے مطابق انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ براہِ راست فوجی حملے الٹا اثر ڈال سکتے ہیں اور ایرانی عوام حکومت کے حق میں متحد ہو سکتے ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کا بھی امکان ہے۔ اسی لیے فوجی کارروائی کے علاوہ سائبر حملوں، نئی پابندیوں اور ایرانی انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کو توڑنے کے لیے اسٹارلنک جیسی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے آپشنز بھی زیر غور ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا نے حملہ کیا تو اسرائیل اور امریکی اڈے محفوظ نہیں رہیں گے، ایران کی ٹرمپ کو دھمکی

دوسری جانب ایران کے سخت گیر پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے فوجی مداخلت کی تو امریکی فوجی اڈے اور تجارتی مراکز ایران کے جائز اہداف ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ایرانی حملے کا جواب بے مثال شدت سے دیا جائے گا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق گزشتہ 15 دنوں میں ایران میں کم از کم 490 مظاہرین ہلاک اور 10 ہزار سے زائد افراد گرفتار ہو چکے ہیں، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔ صورتحال پر امریکا، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp