کیا پاکستان کے مسائل کا واحد حل ٹیکنوکریٹس ہیں، ماضی میں ٹیکنوکریسی کیوں ناکام رہی؟

منگل 13 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گزشتہ کئی دنوں سے پاکستان میں کسی مجوزہ ٹیکنو کریٹ حکومت یا وزیراعظم کی تعیناتی پر بحث ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی موجودہ حکومت 18 ماہ تک برقرار رہے گی، فچ کی پیشگوئی

اس بحث کے آغاز کے بعد سے کئی لوگوں کے نام ٹیکنو کریٹ وزیراعظم یا وزیر خزانہ کے طور پر سامنے آ چکے ہیں۔ لیکن یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پاکستان میں نظام حکومت چلانے کے لیے سیاستدانوں کی بجائے ٹیکنوکریٹس کو ترجیح دینے کی بات ہو رہی ہو بلکہ پاکستان کی تاریخ ایسی تعیناتیوں سے بھری پڑی ہے۔

پاکستان میں بڑے عہدے تک رسائی حاصل کرنے والے سب سے پہلے ٹیکنوکریٹ انگریز دور کے سول سرونٹ اور حکومت پاکستان کے پہلے سیکریٹری جنرل چوہدری محمد علی تھے جن کو سنہ 1951 میں وزیر خزانہ اور سنہ 1955 میں وزیراعظم بنایا گیا۔

ان کے بعد سابق سفارتکار محمد علی بوگرہ، ورلڈ بنک کے سینیئر آفیسر معین قریشی، سابق بینکار شوکت عزیز، سابق چیف جسٹس ناصر الملک، انوار الحق کاکڑ اور سابق فیڈرل سیکریٹری غلام اسحاق خان وزرائے اعظم اور صدر کے عہدوں جبکہ ماہر معیشت سرتاج عزیز، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، شمشاد اختر، ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور معید یوسف وغیرہ وفاقی وزیر رہے۔

موجودہ حکومت میں بھی کئی کلیدی عہدے ٹیکنو کریٹس کے پاس ہیں جن میں وزیر خزانہ اورنگزیب خان، وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی شامل ہیں۔

تاہم اب بھی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ مستقبل قریب میں عنان حکومت یا پھر اہم عہدے ٹیکنو کریٹس کو دیے جا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں جن ٹیکنوکریٹس کے نام لیے جا رہے ہیں ان میں نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد، عبدالحفیظ شیخ، اسحاق ڈار، جیسے لوگ شامل ہیں۔

مزید پڑھیے: پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری، فچ ریٹنگز نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟

لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنوکریٹس حکومت میں آئیں یا نہیں پاکستان کے مسائل تمام شعبوں کے ماہرین، سیاستدانوں، مقتدرہ اور انتظامیہ کی متفقہ ہمہ جہت قومی حکمت عملی کے ذریعے ہی حل ہوں گے۔

سینیئر تجزیہ کار ضیغم خان کے مطابق ٹیکنو کریٹس کی موجودہ قیاس آرائیوں کا زمینی حقائق سے کوئی خاص تعلق نظر نہیں آتا۔ موجودہ صورتحال میں ٹیکنوکریٹس کو وزیراعظم بنانے کی کوئی عملی گنجائش نہیں ہے

ضیغم خان نے کہا کہ ’ٹیکنوکریٹس کو 2،3 وزارتیں دی جا سکتی ہیں جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ موجودہ سسٹم میں کسی بھی وزیر کو بدلا جا سکتا ہے اگر مقتدرہ یہ فیصلہ کر لے کہ فلاں ٹیکنوکریٹ کو کسی وزارت میں لانا ہے۔‘

ضیغم خان کہتے ہیں کہ درحقیقت پاکستان میں کوئی غیر معمولی یا شاندار ٹیکنوکریٹس موجود نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ایک محدود سا حلقہ ہے جو مختلف نوکریوں کے لیے بھاگ دوڑ کرتا رہتا ہے، وہی باتیں کرتا ہے جو حکمرانوں کو پسند آئیں، تاکہ انہیں عہدہ مل جائے۔ ان کو لا کر بھی کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آ سکتی‘۔

ضیغم خان نے کہا کہ اصل مسئلہ ٹیکنوکریٹک سلوشن کا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا مسئلہ کسی تکنیکی فہم کی کمی سے پیدا نہیں ہوتا اور سب کو معلوم ہے کہ کیا کرنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ عالمی ادارے ہوں، جیسے ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، اے ڈی بی، بیرونی آزاد تجزیہ کار ہوں یا پاکستان کے اپنے نامور ماہر معاشیات، سب جانتے ہیں کہ اصلاحات کیا ہیں لہٰذا مسئلہ یہ نہیں کہ حل معلوم نہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ حل عمل میں لائے نہیں جا سکتے۔

ضیغم خان نے کہا کہ اس کی وجہ پاکستان کی پولیٹیکل اکانومی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسئلے کی جڑ میں ٹیکنوکریٹک نہیں بلکہ سیاسی و معاشی ڈھانچے کے مسائل ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری ایلیٹ پر مبنی معیشت اور ایلیٹ کے مفادات بنیادی رکاوٹ ہیں۔

سینیئر صحافی طلعت حسین کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی پاکستان میں ٹیکنو کریٹس ہی نظام حکومت چلا رہے ہیں اور خزانہ، خارجہ، دفاع اور داخلہ جیسی اہم وزارتیں ٹیکنوکریٹس کے کنٹرول میں ہیں۔ اس لیے ٹیکنوکریسی کے کسی نئے نظام کا فوری طور پر کوئی امکان نہیں ہے۔

ڈان ٹی وی سے منسلک پولیٹیکل شو ہوسٹ نادیہ نقی کے خیال میں صرف کسی فرد کو بدلنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’درحقیقیت نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے اور اشرافیہ کی اجارہ داری کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں: موڈیز کی درجہ بندی میں پاکستان پہلے سے بہتر پوزیشن پر آگیا

نادیہ نقی نےکہا کہ ’آپ کسی کو بھی لے آئیں جو معیشت کو حرکت میں لے آئے لیکن جب تک اشرافیہ کی گرفت ختم نہیں ہوتی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان 40 جے ایف-17 طیاروں اور ڈرونز کی فروخت پر مذاکرات جاری، رائٹرز کی رپورٹ

کشمیر کی وادی شکسگام ہماری ہے، چین نے بھارت کی چھٹی کرادی

سیکیورٹی نے عامر خان کو اپنے ہی دفتر سے باہر کیوں نکال دیا؟

امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ

نیو یارک: وفاقی حکام کی جانب سے سٹی کونسل ملازم کی گرفتاری، میئر ظہران ممدانی کا شدید ردعمل

ویڈیو

سخت سردی میں سوپ پینے والوں کی تعداد میں اضافہ

سانحہ 9 مئی: سہیل آفریدی کی موجودگی ثابت، ایف آئی آر میں نامزد نہ کیا گیا تو عدالت سے رجوع کریں گے، وکیل ریڈیو پاکستان

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

کالم / تجزیہ

وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘