نیو یارک کے میئر ظہران ممدانی نے وفاقی امیگریشن حکام کی جانب سے نیو یارک سٹی کونسل کے ایک ملازم کی گرفتاری پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
میئر کے مطابق مذکورہ ملازم کو ناساؤ کاؤنٹی میں ایک معمول کے امیگریشن اپائنٹمنٹ کے دوران حراست میں لیا گیا، جسے انہوں نے جمہوریت، شہر اور امریکی اقدار پر براہِ راست حملہ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے: ظہران ممدانی کا بڑا اقدام، نیویارک میں یونیورسل چائلڈ کیئر سہولت فراہم کرنے کا اعلان
میئر ممدانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس اقدام سے ‘سخت مشتعل’ ہیں اور مطالبہ کیا کہ سٹی کونسل کے ملازم کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کی خود نگرانی کریں گے اور کسی بھی ناانصافی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا میں امیگریشن پالیسیوں اور وفاقی حکام کے اختیارات پر پہلے ہی شدید بحث جاری ہے۔ حالیہ مہینوں میں شہری حکومتوں اور وفاقی اداروں کے درمیان امیگریشن کے معاملات پر تناؤ بڑھا ہے، خصوصاً ان شہروں میں جو خود کو ‘سینکچوئری سٹیز’ قرار دیتے ہیں اور غیر قانونی تارکین وطن کے تحفظ کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔
I am outraged to hear a New York City Council employee was detained in Nassau County by federal immigration officials at a routine immigration appointment. This is an assault on our democracy, on our city, and our values. I am calling for his immediate release and will continue…
— Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) January 12, 2026
نیو یارک سٹی حکام کا مؤقف ہے کہ معمول کے امیگریشن معاملات میں اس طرح کی گرفتاریاں خوف و ہراس پھیلانے کے مترادف ہیں اور اس سے شہریوں کا نظام پر اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ دوسری جانب وفاقی امیگریشن ادارے اپنے اقدامات کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہیں۔
واقعے کے بعد شہری حقوق کی تنظیموں نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور گرفتار شخص کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ معاملہ اب سیاسی اور قانونی دونوں سطحوں پر ایک نئی بحث کو جنم دے چکا ہے۔














