بھارت نے جمعے کے روز مقبوضہ کشمیر کی وادی شکسگام میں چین کی جانب سے جاری بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کے ترقیاتی منصوبوں پر سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ علاقہ بھارتی سرزمین کا حصہ ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شکسگام وادی بھارتی علاقہ ہے اور ہم چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔
1963 کے چین پاکستان معاہدے کو بھارت نے غیر قانونی قرار دیا
بھارتی ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت نے 1963 میں چین اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے نام نہاد سرحدی معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ ان کے مطابق ہم مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ یہ معاہدہ غیر قانونی اور ناقابلِ قبول ہے۔
یہ بھی پڑھیے تبت میں چینی ڈیم کی تعمیر بھارت کے لیے کس قدر تباہ کن ہو سکتی ہے؟
بھارت میں ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین ترقیاتی سرمایہ کاری کے ذریعے اس علاقے پر اپنے کنٹرول کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
شکسگام وادی ہمارا علاقہ ہے، چین کا دوٹوک جواب
بھارتی اعتراضات پر چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان اور انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر ماؤ نِنگ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا آپ جس علاقے کا ذکر کر رہے ہیں، وہ چین کا حصہ ہے۔ اپنے علاقے میں انفراسٹرکچر کی تعمیر چین کا مکمل اور جائز حق ہے۔
چین پاکستان سرحدی معاہدہ خودمختار ممالک کا حق
ماؤ نِنگ نے کہا کہ ’چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں ایک سرحدی معاہدہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان سرحد کا تعین کیا، جو 2 خودمختار ریاستوں کا باہمی حق ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے شنگھائی ایئرپورٹ پر بھارتی خاتون کو زیر حراست رکھے جانے پر انڈیا کا چین سے شدید احتجاج
سی پیک کا مقصد ترقی اور عوامی فلاح
چینی ترجمان نے واضح کیا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) ایک اقتصادی تعاون کا منصوبہ ہے، جس کا مقصد مقامی سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری ہے۔
کشمیر پر چین کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں
ماؤ نِنگ نے مزید کہا کہ چین پاکستان سرحدی معاہدہ اور سی پیک، کشمیر کے مسئلے پر چین کے مؤقف کو متاثر نہیں کرتے۔ اس معاملے پر چین کا مؤقف بدستور وہی ہے۔













