مثبت آغاز کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایک بار پھر مندی کے رجحانات غالب آ گئے اور منگل کے روز انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران 100 انڈیکس 600 سے زائد پوائنٹس گرگیا۔
دوپہر 12 بج کر 55 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 637.13 پوائنٹس یعنی 0.35 فیصد کمی کے ساتھ 181,747.01 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
اہم شعبوں میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، تیل و گیس کی تلاش و پیداوار کی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، بجلی پیدا کرنے والے ادارے اور ریفائنریاں شامل ہیں۔
اے آر ایل، حبکو، ماری، پول، پاکستان اسٹیٹ آئل، ایس ایس جی سی، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک اورمیزان بینک سمیت انڈیکس پر زیادہ اثر ڈالنے والے بڑے شیئرز منفی زون میں ٹریڈ ہوتے رہے۔
Market is down at midday 👇
⏳ KSE 100 is negative by -1001.21 points (-0.55%) at midday trading. Index is at 181,382.94 and volume so far is 176.92 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/Uo9XTGYBWF— Investify Pakistan (@investifypk) January 13, 2026
ایک اہم پیش رفت میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے امیر طبقے پر ٹیکس کے بوجھ میں اضافے کے لیے کاروباری برادری سے نئی تجاویز طلب کر لی ہیں۔
اس سلسلے میں ایف بی آر نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے کاروباری اور تجارتی حلقوں سے تجاویز مانگی ہیں۔
مزید پڑھیں: فروخت کے دباؤ کے باعث اسٹاک مارکیٹ منفی زون میں، انڈیکس میں 890 پوائنٹس کی کمی
واضح رہے کہ گزشتہ روز یعنی پیر کو پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ شدید مندی کے ساتھ بند ہوئی تھی، جہاں گزشتہ ہفتے کی مضبوط تیزی کے بعد سرمایہ کاروں نے جارحانہ منافع خوری کی۔
کے ایس ای 100 انڈیکس 2,025.52 پوائنٹس یعنی 1.1 فیصد کمی کے ساتھ 182,384.15 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج: سرمایہ کاروں کی تعداد میں 41 فیصد اضافہ
عالمی سطح پر منگل کے روز جاپانی شیئرز میں زبردست تیزی کے باعث ایشیائی منڈیاں بلند رہیں، جہاں مصنوعی ذہانت سے جڑی سرمایہ کاری پر سرمایہ کاروں کے اعتماد نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔
تاہم، امریکی فیڈرل ریزرو کی خودمختاری سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث سونے کو فائدہ پہنچا، جبکہ ڈالر دباؤ میں رہا۔

شیئر مارکیٹس میں جاپان کا نِکی انڈیکس تعطیلات کے بعد 3.4 فیصد اضافے کے ساتھ نئی ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گیا، جس کی وجہ کمزور ین اور ممکنہ مالیاتی مراعات سے متعلق توقعات رہیں۔
جنوبی کوریا اور تائیوان کی منڈیاں بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جبکہ چینی بلیو چِپ شیئرز 4 سال کی بلند ترین سطح پر آ گئے۔
ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسفک حصص کا وسیع ترین انڈیکس 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ ساز کاروبار، انڈیکس 179,000 پوائنٹس کی سطح عبور کرگیا
یورپی منڈیوں میں یورو اسٹاکس 50 فیوچرز میں 0.2 فیصد اضافہ ہوا، ڈی اے ایکس فیوچرز 0.1 فیصد بڑھے جبکہ ایف ٹی ایس ای فیوچرز تقریباً بغیر تبدیلی کے رہے۔
دسمبر کے امریکی کنزیومر پرائس انڈیکس کے اہم اعداد و شمار سے قبل ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.2 فیصد اور نیسڈیک فیوچرز میں 0.3 فیصد کمی دیکھی گئی۔













