وزارتِ تجارت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی ہے کہ برآمد کنندگان یا ان کے کلیئرنگ و فارورڈنگ ایجنٹس کی درخواست پر افغان ٹرانزٹ کارگو کو کسی بھی سمندری بندرگاہ کے لیے دوبارہ برآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔
وزارتِ تجارت نے ایف بی آر کو لکھے گئے ایک خط میں کراچی، گوادر کی بندرگاہوں اور بارڈر کراسنگ پوائنٹس پر پھنسے ہوئے تمام افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کارگو کی دوبارہ برآمد کی اجازت دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تجارت لوگوں کی جانوں سے بڑھ کر نہیں، سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے تک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بند رہے گی، پاکستان
وزارت نے ایک علیحدہ خط کے ذریعے امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 کے پیرا 6(4) سے استثنیٰ بھی منظور کیا ہے، جس کے تحت اے پی پی ٹی اے 2010 کے تحت درآمدات کو وفاقی حکومت کی جانب سے نوٹیفائی کیے گئے قواعد کے مطابق اجازت دی جاتی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ویتنام اور ملائیشیا سے آنے والے پھنسے ہوئے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کنٹینرز کو برآمد کنندگان یا ان کے کلیئرنگ و فارورڈنگ ایجنٹس کی درخواست پر کسی بھی سمندری بندرگاہ کے لیے دوبارہ برآمد کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
#Pakistan’s Ministry of Commerce has announced that Afghan transit commercial consignments presently held at the ports of Karachi and Gwadar, as well as at multiple border crossing points, may be re-exported via any Pakistani port upon the exporters’ request. pic.twitter.com/ksT4l0hqmb
— The Dispatcher (@dispatcherOnX) January 13, 2026
وزارتِ تجارت نے مزید کہا کہ اس ضمن میں ایف بی آر سے گزارش ہے کہ ویتنام اور ملائیشیا سے آنے والے پھنسے ہوئے اے ٹی ٹی کنٹینرز کی ری ایکسپورٹ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
یہ پیش رفت اس بین الوزارتی اجلاس کے چند روز بعد سامنے آئی ہے جس کی صدارت وزارتِ تجارت کے جوائنٹ سیکریٹری نے کی تھی۔
اجلاس میں 11 اکتوبر 2025 سے پاک افغان سرحد کی بندش کے باعث سمندری بندرگاہوں اور بارڈر کراسنگ پوائنٹس (بی سی پیز) پر پھنسے ہوئے کارگو کی کلیئرنس کے لیے حکمتِ عملی تیار کی گئی۔
مزید پڑھیں: افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی اہم پیش رفت، گوادر پورٹ پر دوسرا بحری جہاز کامیابی سے لنگر انداز
جوائنٹ سیکریٹری نے بتایا کہ وزارتِ تجارت پہلے ہی کراچی بندرگاہ پر پھنسے ہوئے تاجکستان اور ازبکستان جانے والے ٹرانزٹ کنٹینرز، اقوامِ متحدہ کے اداروں کے انسانی ہمدردی کے کارگو، اور ویتنام و ملائیشیا سے آنے والے اے ٹی ٹی کنٹینرز کی کلیئرنس کے لیے خطوط جاری کر چکی ہے۔
تاہم، ڈائریکٹر جنرل ٹرانزٹ ٹریڈ نے آگاہ کیا کہ مختلف ممالک کے ٹرانزٹ کنٹینرز کی بڑی تعداد اب بھی مختلف بی سی پیز اور کراچی بندرگاہ پر پھنسے ہوئے ہے، جب کہ کچھ بلک کارگو گوادر بندرگاہ پر موجود ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزارتِ تجارت کو غیر ملکی مشنز، برآمد کنندگان اور ان کے کلیئرنگ ایجنٹس کی جانب سے مسلسل کلیئرنس کی درخواستیں موصول ہو رہی ہیں، اس لیے بندرگاہوں اور بی سی پیز پر رش اور دباؤ سے بچنے کے لیے ایک مستقل اور جامع پالیسی کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کیا ہے اور اس سے پاکستان کو کیا نقصان ہوا؟
ڈائریکٹر جنرل ٹرانزٹ ٹریڈ نے وزارت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مذکورہ ٹرانزٹ کارگو کی کلیئرنس کے لیے واضح ہدایات موصول ہو چکی ہیں، تاہم باقی ماندہ کارگو کے بارے میں ابہام موجود ہے۔
جو مجموعی طور پر پھنسے ہوئے کارگو کا تقریباً 50 فیصد ہے، اور جسے غیر معینہ مدت تک بندرگاہوں اور بی سی پیز پر نہیں رکھا جا سکتا۔
سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے فورم نے وسطی ایشیائی ٹرانزٹ کارگو، جو بی سی پیز پر پھنسا ہوا ہے، کے لیے 4 آپشنز تجویز کیے۔
مزید پڑھیں:افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے پاکستان سے افغانستان جانے والی کن اشیا پر پابندی عائد کردی گئی؟
ان میں کراچی میں مینی فیسٹ تبدیل کر کے تفتان کے راستے کنٹینرز کی ترسیل، کراچی میں مینی فیسٹ تبدیل کر کے خنجراب/سوست کے راستے ترسیل، کنٹینرز کو بذریعہ ہوائی راستہ منتقل کرنا، اور مخصوص درخواست پر کسی بھی سمندری بندرگاہ کے لیے ری ایکسپورٹ کی اجازت شامل ہے۔
اجلاس میں یہ بھی سفارش کی گئی کہ سمندری بندرگاہوں اور بی سی پیز پر پھنسے ہوئے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کارگو کو برآمد کنندگان یا ان کے کلیئرنگ ایجنٹس کی درخواست پر کسی بھی بندرگاہ کے لیے دوبارہ برآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔
مزید یہ کہ وزارتِ تجارت اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے کارگو کے مینی فیسٹ میں تبدیلی کی اجازت کے لیے وزارتِ خارجہ اور اقوامِ متحدہ کے اداروں سے رابطہ کرے گی، جس کے بعد یہ کارگو کراچی بندرگاہ سے کلیئر کر کے گوداموں میں منتقل کیا جائے گا۔













