نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ملک میں طویل عرصے سے ڈھانچہ جاتی اصلاحات زیرِ غور تھیں، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ان کا عملی اطلاق کیا گیا۔
اسلام آباد میں پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری دو دہائیوں کی کوششوں کے بعد ممکن ہوئی، گردشی قرضوں میں کمی کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جبکہ رائٹ سائزنگ اور گورننس میں اصلاحات حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اسحاق ڈار کا ایران کے ساتھ ترجیحی شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھنے کا اعلان
اسحاق ڈار نے کہا کہ ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے وسائل کے درست اور عوام کے حق میں استعمال کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر تھا اور مئی 2023 میں فچ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان ایک مہینے میں ڈیفالٹ کر جائے گا، تاہم انہوں نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا اور یہ بات ثابت بھی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو کاروبار نہیں کرنا چاہیے، نجکاری سے فائدہ ہوا ہے، اب معاشی حالات بہتر ہو رہے ہیں، پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے تاریخ رقم کی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس میں تبدیل ہو چکا ہے اور غربت میں کمی آئی ہے۔













