پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے نئے میثاقِ جمہوریت کے لیے تمام جمہوری قوتوں کو باہمی اشتراک کی دعوت دیتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ازسرِنو تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق ملک اس وقت ایک نہایت حساس اور پیچیدہ سیاسی مرحلے سے گزر رہا ہے، جس کے پیشِ نظر تمام جمہوری قوتوں کو نئے میثاقِ جمہوریت پر متفق ہونا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں نئی محاذ آرائی کیوں؟
پی ٹی آئی کی جانب سے سیاسی جماعتوں کو میثاقِ جمہوریت کی دعوت پر بڑی سیاسی جماعتوں کی طرف سے ردِعمل سامنے آ گیا ہے۔
پیپلز پارٹی کا مؤقف
پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ ڈائیلاگ اور جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہے اور ملک میں آگے بڑھنے کا واحد راستہ بھی یہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بار بار کہتے رہے ہیں کہ بات چیت کے بغیر جمہوریت مستحکم نہیں ہو سکتی۔ چارٹر آف ڈیموکریسی دراصل سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک ضابطہ ہے جس کے تحت جمہوری فیصلے کیے گئے، اور پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اس سوچ کو آگے بڑھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت، بشمول آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر رہنما، ہر دور میں سیاسی مکالمے کی حمایت کرتے رہے ہیں، چاہے عمران خان اقتدار میں ہوں یا نہ ہوں۔
پی ٹی آئی کی قیادت پر تبصرہ
قمر زمان کائرہ نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی سوچ کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ مفاہمت اور بات چیت کی بات کرتے ہیں، تاہم افسوس ہے کہ ان کی اپنی جماعت میں ان کی سوچ کو مکمل طور پر قبول نہیں کیا جا رہا۔ بعض اوقات ایک رہنما کچھ مان لیتا ہے اور دوسرا نہیں، جس سے فیصلوں میں تضاد پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے عمران خان کو مشورہ دیا کہ وہ بیرسٹر گوہر جیسے سینیئر اور سمجھدار افراد کو فیصلوں کا اختیار دیں۔ اگر عمران خان اپنی جماعت میں ایسی قیادت کو آگے لائیں اور مفاہمتی رویہ اپنائیں تو سیاسی ماحول میں بہتری آ سکتی ہے اور راستے کھل سکتے ہیں۔
حکومتی ردِعمل
وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے پی ٹی آئی کے میثاقِ جمہوریت سے متعلق بیان پر کہا ہے کہ حکومت ہر وقت پی ٹی آئی سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میثاقِ جمہوریت کا مسودہ سامنے آئے گا تو اس کا جائزہ لیں گے اور اپنا مؤقف بھی دیں گے۔
جمعیت علمائے اسلام کا نقطۂ نظر
جمعیت علمائے اسلام کے ترجمان سینیٹر کامران مرتضیٰ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے میثاقِ جمہوریت کی بات کرنا خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ کوئی بھی جماعت کسی بھی وقت میثاقِ جمہوریت کی بات کرے، لیکن یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے مفاد کے لیے ہر میثاق کو چھوڑ دیتی ہیں اور وہاں جا کر ہاتھ ملا لیتی ہیں جہاں پہلے پی ٹی آئی اور اب ن لیگ نے ہاتھ ملایا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میثاقِ جمہوریت کے لیے سب سے پہلے سیاسی جماعتوں کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ کبھی کسی غیر جمہوری قوت کی طرف نہیں دیکھیں گی۔
آئین کی بالادستی پر زور
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے مزید کہا کہ میثاقِ جمہوریت صرف اور صرف آئین کی بالادستی کے لیے ہونا چاہیے اور آئین و دستور کے مطابق ہونا چاہیے۔ کسی فرد یا کسی جماعت کو سہولت دینے کے لیے کوئی بھی میثاق نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علمائے اسلام مسلم لیگ ن، پی ٹی آئی یا کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ میثاقِ جمہوریت کے لیے بیٹھنے کو ہر وقت تیار ہے۔














