وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ریلوے کے منظم انتظام اور منافع بخش تجارتی استعمال کے لیے فوری طور پر ایک جامع، مؤثر اور عملی حکمتِ عملی تیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
وزیراعظم نے یہ ہدایات آج اسلام آباد میں پاکستان ریلوے میں اصلاحات سے متعلق ایک مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔
ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر قرار
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ریلوے کی ادارہ جاتی اور انتظامی کارکردگی کو مؤثر بنانے کے لیے انقلابی اقدامات کی اشد ضرورت تھی، جو طویل عرصے سے التوا کا شکار رہے۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان ریلوے کا تاریخی سنگِ میل: 2025 میں 93 ارب روپے سے زائد آمدنی اور ملک گیر جدیدکاری
انہوں نے کہا کہ جاری اصلاحات اور پاکستان ریلوے کو ایک منافع بخش ادارے میں تبدیل کرنے سے یہ قومی صنعت، تجارت کے فروغ اور سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
ترقیاتی بجٹ اور عالمی معیار کا نظام
شہباز شریف نے کہا کہ ریلوے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے انقلابی نوعیت کے اقدامات کا آغاز کیا ہے، جن کے اطمینان بخش نتائج سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ مالی سال کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) میں پاکستان ریلوے کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مناسب اور متناسب بجٹ مختص کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے پاکستان ریلوے کو بین الاقوامی معیار کے عالمی سطح کے تجارتی ٹرانسپورٹ سسٹم سے ہم آہنگ کرنے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
نجی شعبے کے اشتراک پر زور
وزیراعظم نے ریلوے کے انفراسٹرکچر کے نجی شعبے کے اشتراک سے منافع بخش تجارتی استعمال کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان ریلوے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید، محفوظ اور مسافر دوست بنایا جائے، وزیراعظم شہباز شریف
انہوں نے کہا کہ معیشت، صنعت، تجارت اور دیگر شعبوں کی مجموعی ترقی کے لیے نجی شعبے کے ماہرین سے مشاورت حکومت کے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔
معیشت اور آمدن میں اضافہ
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایک جدید اور مؤثر ریلوے نظام نہ صرف ملکی معیشت کی ترقی بلکہ قومی آمدن میں اضافے میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔













