یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

جمعہ 16 جنوری 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے آزادی رائے نہیں ہے۔ یہ سائبر وار ہے۔ یہ ایک خطرناک جنگ ہے جوآزادی رائے کے لبادے میں معاشرے  اور ریاست پر مسلط کر دی گئی ہے۔  اس جنگ کو اسی اہتمام سے لڑنا ہو گا جس اہتمام سے دوسری جنگیں لڑی جاتی ہیں۔

پاکستان میں عرصہ ہوا بات آزادی رائے سے آگے بڑھ چکی ہے۔ یہ ایک باقاعدہ ابلاغی جارحیت ہے۔ پاکستان کے مفادات اس کا ہدف ہیں۔ ہمارے فوجی جوان شہید ہوں تو ان کا تمسخر اڑایا جاتا ہے۔ پاکستان بھارت سے حالت جنگ میں ہو تو پاکستان کی دفاعی قوت کی تضحیک کی جاتی ہے، قومی دن آ جائیں تو قیام پاکستان پر بازاری انداز سے فقرے کسے جاتے ہیں۔ افغانستان سے تلخی بڑھ جائے تو اپنی ریاست پر فرد جرم عائد کر کے اسے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔

جھوٹی ویڈیوز بنا کر پھیلائی جاتی ہیں اور الگوردم کی غیر معمولی قوت ان کے ہمراہ ہوتی ہے۔ ریاست دشمن بیانیہ حیران ہنر کاری سے وائرل ہو جاتا ہے۔ کچھ ’یوٹیومرز‘ ہیں جو مسلسل پاکستان میں انتشار اور فتنہ گری پھیلانے میں مصروف رہتے ہیں۔ کچھ مقامی ہیں کچھ بیرون ملک بیٹھے ہیں، لیکن ایجنڈا ایک ہی ہے۔

 اس بحث کو سمجھنے کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی کے انٹر نیٹ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر پروفیسر فلپ ہاورڈ کی رپورٹ ‘دی گلوبل ڈس انفارمیشن آرڈر’ کا مطالعہ بہت اہم ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے غیر ملکی اثر و رسوخ اور مداخلت کو بڑھانے کے لیے جن ممالک میں سائبر ٹروپس یعنی سوشل میڈیا کے جنگجوؤں کے ذریعے کارروائیوں کے باقاعدہ شواہد ملے ہیں ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔  سوال یہ ہے کہ جو چیز آکسفرڈ یونیورسٹی کے علمی حلقوں میں زیر بحث آ رہی ہے وہ پاکستان میں بحث کا عنوان کیوں نہیں بن سکی؟

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

سوشل میڈیا ‘ویپنائز’ ہو چکا ہے۔ یہ اب ہتھیار ہے۔ ریاست کو گومگو کی کیفیت سے نکل کر دو ٹوک موقف اختیار کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے عام قانون کی طرح ابھی بین الاقوامی قانون  بھی ارتقائی منازل میں ہے۔  تاہم اس کی جورسپروڈنس کے ابتدائی خدوخال بہت واضح ہیں۔ اس حولے سے ایک بنیادی دستاویز ہے جسے

Tallinn Manual on the International Law Applicable to Cyber Warfare

کہا جاتا ہے۔ اسے کیمرج یونیورسٹی پریس سے شائع کیا گیا اور اس کی تیاری میں مغربی دنیا کے بین الاقوامی قانون کے جید ماہرین نے شرکت کی، اس کے پروجیکٹ ڈائریکٹر امریکا کے نیول وار کالج کے سربراہ تھے اگر چہ یہ ایک نان بائنڈنگ دستاویز ہے تاہم اس کی اہمیت اور معنویت مسلمہ ہے۔

ٹالن مینوئل میں چار بنیادی باتیں کی گئی ہیں:

پہلی بات یہ کہی گئی ہے کہ کسی بھی ملک کی حاکمیت اعلی اور خود مختاری اس کی جغرافیائی حدود تک نہیں ہے بلکہ اس میں سائبر اسپیس بھی آتی ہے۔ اور اس کا اطلاق سوشل میڈیا وغیرہ پر بھی ہو گا۔

دوسری بات یہ کہ اگر کسی ملک پر انفارمیشن وار مسلط کی جاتی ہے تو یہ اس ملک کے خلاف جارحیت تصور ہو گی۔ اور اس پرا قوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 کی ذیلی دفعہ 4 کا اطلاق ہو گا۔

مزید پڑھیے: جنریشن زی سوال ہی تو نہیں اٹھاتی

 تیسری بات یہ  کہ ہر ملک کو اس قسم کی ابلاغی جارحیت کو باقاعدہ فوجی ہدف سمجھ کر کچلنے کا حق حاصل ہو گا۔ یہ بہت ذو معنی اصطلاح ہے۔ فوجی ہدف وہ ہوتا ہے جسے کوئی بھی ملک ٹارگٹ کر سکتا ہے ا ور اسے نیست و نابود کر سکتا ہے۔ عام شہریوں اور فوجی ہدف کو ہمیشہ سے انٹر نیشنل لا میں الگ الگ رکھا گیا ہے۔ اور انٹر نیشنل لا میں جس چیز کو فوجی ہدف قرار دے دیا جائے، اس کو طاقت کے استعمال سے کچل دینا ایک جائز جنگی اقدام تصور کیا جاتا ہے۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اگر دشمن کی باقاعدہ افواج کسی دوسرے ملک کے خلاف سائبر جنگ لڑ رہے ہوں تو ان کا معاملہ تو بہت واضح ہے لیکن اگر وہ سوشل میڈیا یا میڈیا ہر عام لوگوں ذریعے یہ کام کروا رہے ہوں، بھلے انہیں پیسے دے کر ان کی خدمات لی ہوں یا وہ لوگ ویسے ہی ان کے لیے استعمال ہوئے جا رہے ہوں تو پھر کیا ہوگا۔ ٹالن مینوئل کا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کو بھلے وہ سویلی ہی کیوں نہ ہوں ،  دشمن کی فوج کا باقاعدہ حصہ تصور کر کے کچل دیا جائے گا۔

 انفارمیشن وار کے یہ اصول خود  مغربی ماہرین نے وضع کیے ہیں۔ پاکستان کو ان ہی اصولوں کی روشنی میں اس انفارمشین وار کو لڑنا ہو گا اور پوری قوت سے لڑنا ہو گا۔

آخری سوال یہاں پر یہ پیدا ہوتا ہے کہ اظہار رائےا ور انفارمیشن وار میں فرق کیسے کیا جائے گا؟ اس کا جواب بہت سادہ ہے۔ آزادی رائے جب تک آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 کے دائرے میں رہے گی یہ آزادی رائے قرار دی جائے گی لیکن جب یہ آئینی حدود کو پامال کر کے ریاست کو سینگوں پر لے لے گی یہ انفارمیشن وار کہلائے گی۔

مزید پڑھیں: سہیل آفریدی لاہور کیا کرنے گئے تھے؟

ملک پر مسلط اس انفارمیشن وار سے نبٹنے کا طریقہ وہی ہے جو ٹالن مینوئل میں بیان کیا گیا ہے۔ باقی سب کہانیاں ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ICE کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا، ٹرمپ نے فوج تعینات کرنے کی دھمکی دیدی

انقلاب منچہ کا آج بنگلہ دیش بھر احتجاج کا اعلان

وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا ماچادو نے اپنا نوبیل انعام صدر ٹرمپ کو پیش کردیا

پاکستانی ٹینس کھلاڑی طلحہ وحید نے گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کر لیا

امیگرنٹ ویزوں کی معطلی ایک متنازع چارٹ پر مبنی، امریکی ماہر خارجہ امور کا انکشاف

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

دینی اور دنیوی تعلیم کی روشنی پھیلانے والے جامعہ اشرفیہ کے نابینا مدرس و مدیر انگریزی رسالہ

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘

ٹرمپ کی اخلاقی جڑیں