بلوچستان کے علاقے خاران میں مسلح افراد کا تھانے اور بینکوں پر دن دہاڑے حملہ، ویڈیوز وائرل

جمعہ 16 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان کے ضلع خاران میں گزشتہ روز درجنوں مسلح افراد شہر میں داخل ہوئے اور مختلف مقامات پر حملے کیے، جس کے دوران سیکیورٹی فورسز کے ساتھ شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

مقامی ذرائع کے مطابق مسلح افراد گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں پر سوار ہو کر خاران شہر میں داخل ہوئے اور سب سے پہلے خاران سٹی پولیس تھانے کو نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں نے پولیس کی سرکاری گاڑیوں اور دیگر سامان کو نقصان پہنچایا جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق قیدیوں کو بھی رہا کروایا گیا اور اسلحہ اپنے ساتھ لے گئے۔

بعد ازاں مسلح افراد خاران کے مرکزی بازار میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر نیشنل بینک آف پاکستان، میزان بینک اور بینک الحبیب کی عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں مسلح افراد کو بینکوں کے اندر جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس پر صارفین کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین اور بعض حلقوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی مبینہ طور پر بھارتی حمایت یافتہ کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشتگردوں کی جانب سے کی گئی، جس کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا تھا۔

سینئر صحافی عمران ریاض خان نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ درجنوں مسلح افراد بلوچستان کے شہر خاران میں پولیس کا سامان تباہ کرکے، قیدیوں کو چھڑوا کر اسلحہ لے گئے اور بنکوں کو بھی لوٹا۔ وہ محسن نقوی کا ایس ایچ او کہاں گیا؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp