چین کے شمال مشرقی صوبے ہیلونگ جیانگ میں واقع ہینگ داؤ حے زی ایک ایسا دلکش قصبہ ہے جو سردیوں میں برف کی سفید چادر اوڑھ کر کسی کہانی کا منظر پیش کرتا ہے۔ یہ قصبہ اپنی خوبصورتی ہی نہیں بلکہ اپنی منفرد تاریخ کی وجہ سے بھی دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔

ہینگ داؤ حے زی کو مقامی لوگ محبت سے ’ریل گاڑیوں سے کھنچ کر بنا ہوا قصبہ‘ کہتے ہیں۔ اس کی بنیاد 19ویں صدی کے آخر میں اس وقت پڑی جب روسی ماہرین نے چینی ایسٹرن ریلوے کی تعمیر کے دوران یہاں ٹرینوں کی مرمت کے کارخانے اور دیگر سہولتیں قائم کیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ جگہ ایک چھوٹے سے ریلوے مرکز سے ایک مکمل قصبے کی شکل اختیار کر گئی۔

آج اس قصبے کی سب سے بڑی پہچان اس کی محفوظ تاریخی عمارتیں ہیں، جن میں یورپی طرزِ تعمیر کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ پرانی اینٹوں سے بنی عمارتیں، لکڑی کے دروازے اور برف سے ڈھکی سڑکیں یہاں آنے والوں کو ایک مختلف دنیا میں لے جاتی ہیں۔

قصبے میں قائم چائنیز ایسٹرن ریلوے میوزیم خاص طور پر سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے، جہاں لوگ تصاویر بناتے اور ریلوے کی تاریخ سے جڑی کہانیاں جانتے ہیں۔ سردیوں میں بچے برف پر کھیلتے اور سنو ٹیوبنگ سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیتے ہیں، جب کہ بڑے لوگ خاموشی سے اس حسین منظر کو آنکھوں میں بسا لیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ویب سمٹ میں چینی روبوٹ نے دھوم مچا دی
ہینگ داؤ حے زی اب صرف ایک تاریخی قصبہ نہیں رہا بلکہ یہ چین کے ان مقامات میں شامل ہو چکا ہے جہاں لوگ سکون، خوبصورتی اور ماضی کی خوشبو ایک ساتھ محسوس کرنے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ انوکھا قصبہ آہستہ آہستہ ایک مقبول سیاحتی مقام بنتا جا رہا ہے۔














