بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کی قیادت میں انتخابی اتحاد، 253 نشستوں پر انتخابی معاہدہ طے

جمعہ 16 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش میں آئندہ قومی پارلیمانی انتخابات کے لیے جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم 10 جماعتی اتحاد نے نشستوں کی تقسیم پر اتفاق کا اعلان کر دیا ہے۔

اس اتفاق رائے کے تحت 300 میں سے 253 حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے جائیں گے، تاہم اس اتحاد کو ’11 جماعتی انتخابی اتحاد‘ قرار دیا جا رہا ہے، حالانکہ اہم اسلامی سیاسی جماعت، اسلامی اندولن بنگلہ دیش، تاحال اس معاہدے میں شامل نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں انتخابات 12 فروری کو ہی ہوں گے، شیڈول میں تبدیلی نہیں، چیف ایڈوائزر محمد یونس

یہ اعلان جمعرات کی شب ڈھاکا میں انسٹی ٹیوشن آف ڈپلومہ انجینیئرز میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا۔

اتحاد کے رہنماؤں کے مطابق اسلامی اندولن بنگلہ دیش کے لیے 47 نشستیں خالی رکھی گئی ہیں اور امید ظاہر کی گئی ہے کہ یہ جماعت جلد یا بدیر اتحاد کا حصہ بن جائے گی۔

نشستوں کی تقسیم کے مطابق بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی 179 حلقوں میں اپنے امیدوار میدان میں اتارے گی، جب کہ نیشنل سٹیزن پارٹی 30، بنگلہ دیش خلافت مجلس 20، خلافت مجلس 10 جبکہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے 7 امیدوار انتخابات میں حصہ لیں گے۔

دوسری جانب اتحاد میں شامل اے بی پارٹی 3، بنگلہ دیش ڈیولپمنٹ پارٹی 2 اور نظامِ اسلام پارٹی بھی 2 نشستوں پر انتخاب لڑیں گی، اس کے علاوہ بنگلہ دیش خلافت اندولن اور نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اتحاد کا حصہ تو رہیں گی، تاہم وہ کسی حلقے میں امیدوار کھڑے نہیں کریں گی۔

مزید پڑھیں: انقلاب منچہ کا آج بنگلہ دیش بھر احتجاج کا اعلان

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی کے نائب امیر سید عبداللہ محمد طاہر نے کہا کہ یہ انتخابات محض اقتدار کی تبدیلی کا معاملہ نہیں بلکہ وجود کے تحفظ اور ایک نئے بنگلہ دیش کی تعمیر کی جدوجہد ہے۔

بعد ازاں جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے وضاحت کی کہ اسلامی اندولن کی غیر موجودگی کے باوجود اتحاد ٹوٹا نہیں ہے اور بات چیت کا عمل جاری ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلامی اندولن آخرکار اتحاد میں شامل ہو جائے گی۔

دوسری جانب اسلامی اندولن بنگلہ دیش نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعہ کی دوپہر اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے الگ بریفنگ دے گی، پارٹی کے ایک سینیئر رہنما نے میڈیا کو بتایا کہ جماعتِ اسلامی کے ساتھ حتمی معاہدے کے امکانات ’انتہائی کم‘ ہیں۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں 16 ماہ کے دوران 113 مزارات پر حملے، ڈھاکہ ڈویژن سرفہرست

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں تعطل کی بنیادی وجہ نشستوں کی تقسیم بنی، اسلامی اندولن نے ابتدا میں 80 نشستوں کا مطالبہ کیا تھا، جو بعد میں 70 تک کم کر دیا گیا، جب کہ جماعتِ اسلامی 45 نشستوں سے زیادہ دینے پر آمادہ نہیں تھی۔

آخری لمحات میں ثالثی کی کوششوں کے باوجود کوئی سمجھوتہ نہ ہو سکا۔ اسی تناظر میں اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے 10 جماعتوں نے 47 نشستیں اسلامی اندولن کے لیے مختص کر کے اعلان آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے جولائی عوامی تحریک کے شرکا کو قانونی تحفظ دینے کی منظوری دیدی

واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات 12 فروری 2026 کو منعقد ہوں گے، جن کے ساتھ آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم بھی ہوگا۔ ملک بھر میں مجموعی طور پر 2,568 کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے جا چکے ہیں، جبکہ 20 جنوری کو دستبرداری کی آخری تاریخ مقرر ہے۔

اتحاد کے معاہدے سے قبل جماعتِ اسلامی 276 اور اسلامی اندولن 272 حلقوں میں امیدوار نامزد کر چکی تھیں، جب کہ دیگر اتحادی جماعتوں نے بھی نامزدگیاں جمع کرائیں، جن سے طے شدہ حلقوں میں دستبرداری متوقع ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس جزوی اتحاد کے انتخابی اثرات پر ابھی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہے۔ اگرچہ جماعتِ اسلامی ایک وسیع اتحاد بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے، تاہم اسلامی اندولن جیسی بڑی اسلامی سیاسی قوت کی علیحدہ شناخت اتحاد کے مشترکہ ووٹ بینک کو کمزور کر سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp