محمود خان اچکزئی 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات میں بلوچستان سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 266 چمن سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے، وہ پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ ہیں اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ بھی ہیں، جبکہ پی ٹی آئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تمام تر اختیارات بھی محمود خان اچکزئی کو دے رکھے ہیں۔
محمود خان اچکزئی پاکستان کے سینیئر سیاسی رہنما، پشتون قومی حقوق کے علمبردار اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (PkMAP) کے چیئرمین ہیں۔ وہ 14 دسمبر 1948 کو کوئٹہ، بلوچستان میں پیدا ہوئے اور سول انجینئرنگ میں بی ایس سی کی ڈگری یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، پشاور سے حاصل کی۔
یہ بھی پڑھیے محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کا نوٹیفکیشن جاری
1989 سے وہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین ہیں، جس کی قیادت انہوں نے اپنے والد عبدالصمد خان اچکزئی کے انتقال کے بعد سنبھالی۔
محمود خان اچکزئی 2002، 2013، اور 2024 میں مختلف حلقوں سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور آج 15 جنوری 2026 کو وہ قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف مقرر ہو گئے ہیں، جس کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے۔
محمود خان اچکزئی موجودہ سیاسی بحران میں آئینی عمل اور جمہوری تسلسل کے تحفظ پر زور دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے محمود اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، پی ٹی آئی کے لئے کتنا فائدہ مند یا نقصان دہ؟
وہ کہتے ہیں کہ جمہوریت کی مضبوطی پاکستان کے استحکام کی بنیاد ہے اور کسی بھی سیاسی حل کے لیے لوگوں کی رضا اور قانون کا احترام ضروری ہے۔ انہوں نے بار بار فوج، عدلیہ اور دیگر اداروں کو آئین کے دائرے میں کام کرنے کی وکالت کی ہے اور سیاسی مداخلت سے باز رہنے کی تاکید کی ہے۔
محمود خان اچکزئی نے حکومت مخالف اتحاد ’تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان‘ کی قیادت کرتے ہوئے سیاسی احتجاجوں اور جلسوں میں حصہ لیا ہے، خاص طور پر اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ عوام کو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر آنا چاہیے، وہ دیگر سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے تیار رہنے کا پیغام بھی دیتے رہے ہیں، اور قومی سطح پر مسائل کے حل میں اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔













