رکن قومی اسمبلی نعیمہ کشور خان نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران واٹس ایپ ہیکنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ واٹس ایپ اکاؤنٹس کا ہیک ہونا اب ایک معمول بنتا جا رہا ہے اور اسمبلی کے متعدد ارکان اس مسئلے کا شکار ہو چکے ہیں۔
نعیمہ کشور خان کا کہنا تھا کہ آئے روز انہیں اور دیگر ارکان کو ایسے پیغامات موصول ہوتے ہیں جن میں کسی رکن کا واٹس ایپ ہیک ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے رقم طلب کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب ایک نیا طریقہ بھی سامنے آ گیا ہے جس کے تحت شہریوں کو فون کر کے پارسل کی وصولی کے بہانے تصدیقی کوڈ مانگا جاتا ہے جو دراصل ہیکنگ کی کوشش ہوتی ہے۔
خاتون رُکن قومی اسمبلی کا واٹس ایپ ہیک کر کے جاننے والوں سے رقم کا مطالبہ کیا گیا pic.twitter.com/jL3rSB1TL2
— A.Waheed Murad (@awaheedmurad) January 16, 2026
انہوں نے کہا کہ انہیں روزانہ پانچ سے چھ ایسے فون موصول ہوتے ہیں اور یہ مسئلہ اب عام شہریوں کے لیے بھی شدید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ نعیمہ کشور خان نے اسپیکر قومی اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ اس بڑھتے ہوئے سائبر فراڈ پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ امور سینیٹر طلال چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ واٹس ایپ کی جانب سے فیچرز میں تبدیلی کے بعد ہیکنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا تھا، تاہم اب کمپنی نے سیکیورٹی فیچرز متعارف کرا دیے ہیں جن کے باعث ان شکایات میں نمایاں کمی آئی ہے۔
واٹس ایپ نے اپنے فیچرز میں تبدیلی کی تھی جس کی وجہ سے ہیکنگ کے واقعات بڑھے ہیں لیکن اب انہوں نے سیکیورٹی فیچر شامل کیا ہے جس کی وجہ سے ہیکنگ کی شکایات میں کمی آئی ہے، طلال چوہدری pic.twitter.com/0c20zooN0w
— Zubair Ali Khan (@ZubairAlikhanUN) January 16, 2026














