4 برسوں میں اوسط اجرت میں 62 فیصد اضافہ، قوتِ خرید بدستور دباؤ کا شکار

ہفتہ 17 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لیبر فورس سروے 25-2024 کے مطابق گزشتہ 4 برسوں کے دوران پاکستان میں اوسط اجرت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم بلند افراطِ زر کے باعث اس اضافے سے حاصل ہونے والی حقیقی قوتِ خرید پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ادارہ شماریات کے سروے کے مطابق 21-2020 میں ملک بھر میں اوسط ماہانہ اجرت 24,028 روپے تھی جو 25-2400 میں بڑھ کر 39,042 روپے ہو گئی۔

یوں اس عرصے میں تقریباً 62 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم اسی مدت میں افراطِ زر کی شرح میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں بیروزگار افراد کی تعداد 59 لاکھ ہوگئی، خیبر پختونخوا سب سے آگے

جس میں 22-2021 کے دوران 29 فیصد سے زائد کی بلند ترین سطح اور بعد کے برسوں میں بھی مہنگائی کی بلند شرح شامل ہے، جس نے روپے کی حقیقی قوتِ خرید کو متاثر کیا۔

اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ اجرتوں میں اضافہ تمام شعبوں میں یکساں نہیں رہا۔

ادارہ شماریات کے مطابق رسمی شعبے میں اوسط ماہانہ اجرت 21-2020 میں 34,964 روپے سے بڑھ کر 25-2024 میں 54,038 روپے ہو گئی، جو تقریباً 54.5 فیصد اضافہ بنتا ہے۔

اس کے برعکس غیر رسمی شعبے میں، جہاں افرادی قوت کی اکثریت کام کرتی ہے، اجرتیں 17,529 روپے سے بڑھ کر 30,834 روپے ماہانہ تک پہنچیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں خواتین انجنیئرز لیبر فورس میں شمولیت سے انکاری کیوں؟

ادارہ شماریات نے دعویٰ کیا ہے کہ سروے میں معیاری شماریاتی اصولوں کی مکمل پاسداری کی گئی، تاہم اس کے ساتھ 5 فیصد تک غلطی کے امکان کو بھی تسلیم کیا گیا۔

غلطی کے امکان کا اطلاق خاص طور پر غیر رسمی شعبے پر زیادہ ہو سکتا ہے، جہاں سروے کرنے والوں اور جواب دہندگان کے تعصب کا امکان رہتا ہے۔

سروے 25-2024 کے مطابق بلوچستان میں اوسط ماہانہ اجرت سب سے زیادہ 27,659 روپے ریکارڈ کی گئی۔

اس کے بعد سندھ 24,664 روپے، خیبر پختونخوا 24,028 روپے اور پنجاب 23,367 روپے کے ساتھ بالترتیب اگلے نمبروں پر رہے۔

مزید پڑھیں: بڑھتی مہنگائی کے ساتھ پاکستان میں بے روزگاری کا گراف کہاں پہنچ گیا؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق غیر رسمی جائزوں میں صوبوں کے اندر اجرتوں کے فرق پر شکوک کا اظہار کیا گیا ہے۔

بعض ماہرین نے ان درجہ بندیوں کو حقیقی اجرتی صورتحال کے بجائے سروے کی ساخت کا نتیجہ قرار دیا۔

افراطِ زر کی شرح 21-2020 میں 8.9 فیصد رہی، جو اگلے سال بڑھ کر 29.18 فیصد تک پہنچ گئی، بعد ازاں 24-2023 میں 23.41 فیصد رہی اور 25-2024  میں اوسطاً 4.49 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

مزید پڑھیں: شعبہ زراعت اور ریئل اسٹیٹ کو باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں لانا کیوں ضروری ہے؟

ماہرین کے مطابق اس عرصے کی مجموعی مہنگائی نے حقیقی آمدنی کو شدید نقصان پہنچایا، بالخصوص کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کو، جن کے اخراجات کا بڑا حصہ خوراک، توانائی اور ٹرانسپورٹ پر صرف ہوتا ہے۔

رسمی شعبے میں اجرتوں کے اضافے کا ایک بڑا سبب سول اور عسکری ملازمین کی تنخواہوں میں بار بار نظرِ ثانی کو قرار دیا جا رہا ہے، جو مجموعی روزگار کا تقریباً 7 فیصد ہیں اور جن کی تنخواہیں وفاقی بجٹ سے ادا کی جاتی ہیں۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگرچہ سرکاری اعداد و شمار میں اجرتوں میں نامیاتی اضافہ واضح ہے، تاہم حقیقی آمدنی میں بہتری جانچنے کے لیے زیادہ حقائق پر مبنی اور جامع تجزیے کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم کورٹ: 40 تولہ حق مہر پر اعتراض، چیف جسٹس کا شوہر کو ادائیگی کا مشورہ

اسلام آباد میں نئے کنونشن سینٹر کی تعمیر، محسن نقوی کا مجوزہ جگہ کا دورہ

سخت شرائط کے باوجود اسٹینڈ بائی پروگرام حاصل کیا اور پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالا، شہباز شریف

شادی کے 2 ماہ بعد خاتون محبوب کے ساتھ فرار، شوہر اور رشتہ کرانے والے نے خودکشی کرلی

’اسکول میں موٹیویٹ کرتے تھے اب پیزا ڈیلیور کررہے ہو‘، سابق کلاس فیلو کا ڈیلیوری بوائے پر طنز، ویڈیو وائرل

ویڈیو

سخت شرائط کے باوجود اسٹینڈ بائی پروگرام حاصل کیا اور پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالا، شہباز شریف

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

 خون جما دینے والی سردی کا توڑ لاندی جو گھروں سے نکل کر ہوٹل تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے