غزہ میں معصوم فلسطینی شہریوں کے خلاف کارروائیوں میں شریک اسرائیلی فوجیوں میں نفسیاتی مسائل تیزی سے بڑھنے لگے ہیں۔ مختلف سرکاری اور طبی رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد فوجیوں میں ذہنی دباؤ، پی ٹی ایس ڈی اور دیگر نفسیاتی امراض کی شرح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ جنگ: اسرائیلی فوجی بدترین نفسیاتی مسائل سے دوچار، 43 فوجیوں کی خودکشی
اعداد و شمار کے مطابق 60 فیصد سے زائد زخمی اسرائیلی فوجیوں میں شدید ذہنی صدمے کی علامات سامنے آئی ہیں، جو جنگی ماحول کے گہرے نفسیاتی اثرات کی عکاسی کرتی ہیں۔
ایک الگ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 12 فیصد ریزرو فوجیوں نے پی ٹی ایس ڈی کی علامات ظاہر کیں، جو جنگ سے پہلے کی صورتحال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جنگ کے بعد 80 ہزار سے زائد فوجیوں کو ذہنی صحت کے مسائل کے باعث علاج یا مسلسل نگرانی کی ضرورت پیش آئی۔ اس کے ساتھ ساتھ خودکشی اور خود کو نقصان پہنچانے کے رجحانات میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے اسرائیلی معاشرے میں سنجیدہ خدشات کو جنم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 2 ہفتوں میں 10 اسرائیلی فوجیوں کی خودکشی، اسرائیل میں تشویش کی لہر دوڑ گئی
ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ جنگی تشدد، مسلسل خوف، ساتھیوں کی ہلاکت اور کارروائیوں کے دوران انسانی جانوں کے ضیاع کا مشاہدہ فوجیوں پر گہرے نفسیاتی زخم چھوڑتا ہے۔
ان کے مطابق یہ عوامل عام تشدد یا مجرمانہ سرگرمیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید ذہنی صدمہ پیدا کرتے ہیں، جس کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں۔













