ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران میں مظاہروں کے دوران ہونے والی اموات، نقصانات اور عوام کے خلاف جھوٹے الزامات کی ذمہ داری امریکی صدر پر عائد ہوتی ہے۔
اپنے بیان میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہاکہ حالیہ ایران مخالف فسادات میں امریکی صدر کی ذاتی مداخلت واضح طور پر دیکھی گئی، جس نے صورتحال کو مزید خراب کیا اور ایرانی عوام کو نقصان پہنچایا۔
مزید پڑھیں: ایران میں احتجاجی مظاہرے جاری: امریکا اور اسرائیل فسادات کرا رہے ہیں، عوام دور رہیں، صدر مسعود پزشکیان
ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے باعث ایران میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔
سپریم لیڈر نے مزید واضح کیاکہ ایران ملک کو جنگ میں دھکیلنے کے عزائم نہیں رکھتا، تاہم اندرونی اور بیرونی جرائم پیشہ عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائےگا۔
واضح رہے کہ ایران میں ہونے والے پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران یہ خیال کیا جارہا تھا کہ کسی بھی وقت حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائےگا، تاہم ساتھ ہی حکومت کے حامی افراد بھی سڑکوں پر نکل آئے اور اظہار یکجہتی کیا۔
ادھر ایران نے جی سیون ممالک کے حالیہ بیان کو ایران کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں تشدد اور دہشتگردی کے واقعات میں اسرائیلی کردار کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں۔
وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ردِعمل میں کہا گیا کہ ایران میں ہونے والے پُرامن مظاہروں کو صہیونی حمایت یافتہ دہشتگرد عناصر نے پرتشدد شکل دی۔
بیان کے مطابق 8 سے 10 جنوری کے دوران مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ امریکی اور اسرائیلی حکام کے بیانات تشدد پر اکسانے کے واضح ثبوت فراہم کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: جی سیون ممالک کا بیان داخلی معاملات میں مداخلت، تشدد کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے، ایران
ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیاکہ ایران آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے پُرامن احتجاج کے حق کا احترام کرتا ہے اور شہری آزادیوں کا پابند ہے، تاہم ریاست شہریوں کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے خلاف قومی سلامتی کے دفاع کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔













