سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ فیوچر منرلز فورم کے دوران پاکستانی معدنی اور توانائی کے شعبے کو غیرمعمولی عالمی توجہ اور پذیرائی حاصل ہوئی، جہاں وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے پاکستان کے وسیع معدنی وسائل، سرمایہ کاری کے مواقع اور اصلاحاتی اقدامات کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم: عالمی سرمایہ کاری کی جانب اہم پیشرفت
اس موقع پر علی پرویز ملک نے سعودی عرب کے وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان سے ملاقات کی جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان توانائی تعاون بڑھانے، نالج ایکسچینج اور تکنیکی اشتراک پر اتفاق کیا گیا۔ سعودی وزیرِ توانائی نے پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون کی خواہش کا اظہار کیا۔

علی پرویز ملک کی سعودی وزیرِ سرمایہ کاری خالد آل فالح سے بھی اہم ملاقات ہوئی جس میں معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات، مشترکہ منصوبوں اور نجی شعبے کے کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025 میں ہونے والی مفاہمتی یادداشتیں
فیوچر منرلز فورم میں خطاب کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان معدنیات کے میدان میں ایک ابھرتی ہوئی عالمی منزل بن رہا ہے اور دنیا بھر کے سرمایہ کار پاکستان کے معدنی وسائل میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔ عالمی میڈیا کی نمائندہ اور سی این این کی اینکر ایلینی گیوکوس نے بھی پاکستان کے معدنی شعبے کو عالمی توجہ کا مرکز قرار دیا۔

عالمی وزرا کے پینل میں پاکستان کے معدنی وژن کو بھرپور سراہا گیا جبکہ علی پرویز ملک نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان معدنی شعبے میں ضوابط کو آسان بنا رہی ہے تاکہ غیرملکی اور مقامی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: ریکوڈک منصوبے سے 75 ارب ڈالر سے زائد مالی فائدے کی توقع ہے، علی پرویز ملک
انہوں نے کہا کہ ریکوڈک محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان میں جدید، شفاف اور پائیدار کان کنی کا نیا معیار ہے۔ اس دوران علی پرویز ملک کی انٹرنیشنل انرجی فورم، میٹسو کارپوریشن اور سعودی ایکزم بینک کی ٹیموں سے بھی اہم ملاقاتیں ہوئیں جن میں تعاون اور سرمایہ کاری کے امکانات پر گفتگو کی گئی۔

وفاقی وزیر نے عالمی سرمایہ کاروں کو اپریل 2026 میں پاکستان میں ہونے والے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت دی۔ فورم میں قائم پاکستان پویلین ’پاکستان، دی منرل مارول‘ شرکاء کی توجہ کا مرکز رہا، جہاں نیشنل منرلز ڈیٹا سینٹر کی جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سہولیات کو عالمی سطح پر پیش کیا گیا، جس سے پاکستان کے معدنی شعبے کی شفافیت اور استعداد کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا۔













