افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی: طالبان حکومت بننے سے بہتری کا خیال غلط نکلا

ہفتہ 17 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کی پالیسی اور سلامتی کی صورتحال ایک نئے اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

بین الاقوامی جریدے ’دی ڈپلومیٹ‘ کے مطابق پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اگست 2021 میں کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد اسلامی امارتِ افغانستان کی کھل کر حمایت کی۔

مزید پڑھیں: افغانستان دہشتگردی کا سرپرست، ایسے عناصر کا زمین کے آخری کونے تک پیچھا کریں گے، خواجہ آصف

اسلام آباد نے اشرف غنی حکومت کے خاتمے کو افغانستان میں دو دہائیوں پر محیط جنگ کے بعد اپنے اسٹریٹجک مفادات کے فروغ کا موقع سمجھا اور یہ تصور کیاکہ کابل میں دوستانہ حکومت بھارت کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو محدود کر سکے گی۔

اسی تناظر میں پاکستان نے اپنا سفارت خانہ کھلا رکھا، نیٹو افواج کے انخلا کے دوران لوگوں کی مدد کی اور عالمی برادری کو افغانستان میں انسانی امداد فراہم کرنے پر آمادہ کرنے میں فعال کردار ادا کیا۔

تاہم ساڑھے چار برس گزرنے کے باوجود پاکستان کو اس حمایت کا خاطر خواہ فائدہ حاصل نہ ہو سکا، بلکہ اب وہ طالبان کی جانب سے افغان سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں ناکامی کا سب سے بڑا اور براہِ راست متاثرہ ملک بن چکا ہے۔

پاکستان دہشتگردی سے پہلے ہی شدید نقصانات اٹھا چکا ہے۔ ’وار آن ٹیرر‘ کے آغاز سے اب تک 80 ہزار سے زیادہ افراد، جن میں سیکیورٹی اہلکار، شہری اور بچے شامل ہیں، دہشتگردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔

2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملہ اس کی سب سے المناک مثال ہے، جس میں 132 طلبہ جان سے گئے۔ انفراسٹرکچر کی تباہی، سرمایہ کاری میں کمی اور طویل المدتی معاشی نقصانات کے باعث پاکستان کو 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔

طالبان کی واپسی سے تشدد میں کمی کا خیال غلط نکلا

اسلام آباد کا خیال تھا کہ طالبان کی واپسی کے بعد تشدد میں کمی آئے گی، لیکن اس کے برعکس سرحد پار حملوں میں اضافہ ہوا، جن کی بڑی تعداد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسوب کی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ اور امریکی ادارے سمیت مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق طالبان کی مفاہمتی پالیسی اور نظریاتی ہم آہنگی کے باعث دہشتگرد گروہ افغانستان میں سرگرم ہیں۔

اندازوں کے مطابق افغانستان میں 6 ہزار سے ساڑھے 6 ہزار ٹی ٹی پی جنگجو موجود ہیں، جب کہ القاعدہ اور داعش خراسان کے عناصر بھی وہاں فعال ہیں۔

پاکستان کے لیے ایک اور تشویشناک پہلو دہشتگرد حملوں میں افغان شہریوں کی بڑھتی ہوئی شمولیت ہے۔ سال 2025 میں پاکستان نے 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن میں 2 ہزار 597 دہشتگرد مارے گئے، جن میں 220 افغان شہری شامل تھے۔

حکام کے مطابق 2022 میں جہاں افغان شہریوں کی شمولیت ایک ہندسے تک محدود تھی، وہ اب بڑھ کر 70 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

ابتدائی طور پر پاکستان نے کشیدگی سے بچنے کے لیے محتاط اور رابطوں پر مبنی حکمتِ عملی اپنائی۔ دوطرفہ مذاکرات، مذہبی ثالثی اور علاقائی سفارت کاری کے ذریعے کابل پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ چین، روس اور خلیجی ممالک کی شمولیت سے ہونے والے فورمز میں طالبان کو دوحہ معاہدے کی پاسداری پر آمادہ کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ متحدہ عرب امارات کی ثالثی سے ٹی ٹی پی جنگجوؤں کو سرحدی علاقوں سے منتقل کرنے پر بھی اتفاق ہوا، تاہم یہ وعدے عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔

طالبان حکومت نے ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی، پاکستان

پاکستان کا مؤقف ہے کہ طالبان حکومت نے ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی اور سرحد سے دور منتقل کرنے کے وعدے پورے نہیں کیے، جس کے باعث اسلام آباد کا صرف مذاکرات پر انحصار کمزور پڑتا گیا۔

اس صورتحال میں طالبان حکومت کی عالمی سطح پر بتدریج قبولیت نے پاکستان کی تشویش میں مزید اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ اب تک صرف روس نے طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم کیا ہے، تاہم افغانستان نے 39 ممالک میں سفارتی موجودگی قائم کرلی ہے۔

پاکستان کا خیال ہے کہ عالمی سطح پر یہ قبولیت طالبان کو مزید بے خوف بنا رہی ہے اور اسلام آباد کے تحفظات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

اسی تناظر میں طالبان اور بھارت کے درمیان بڑھتے روابط بھی پاکستان کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔ بھارت نے کابل میں دوبارہ سفارتی سرگرمیاں شروع کیں، انسانی امداد میں اضافہ کیا اور 2025 میں طالبان قیادت سے سیاسی روابط کو وسعت دی۔

افغان عبوری وزیر خارجہ کا بھارت کا دورہ اور طالبان کے نامزد سفیر کو قبول کرنا دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کی علامت ہیں۔

پاکستان میں ان پیشرفتوں کو تاریخی اور اسٹریٹجک زاویے سے دیکھا جا رہا ہے، جہاں افغانستان اور بھارت کے قریبی تعلقات کو طویل عرصے سے اسٹریٹجک گھیراؤ کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔

سیکیورٹی حلقوں کے مطابق یہ صورتحال پاکستان کے مغربی محاذ پر چیلنجز میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔

پاکستان نے اپنی افغان پالیسی پر نظرثانی شروع کردی

سفارتی کوششوں کی ناکامی کے بعد پاکستان نے اپنی افغان پالیسی پر نظرثانی شروع کردی ہے، جسے حکام ’ٹو ڈی اسٹریٹجی‘ یعنی ڈیٹرنس اور ڈائیلاگ قرار دے رہے ہیں۔

اس حکمتِ عملی کے تحت مذاکرات کے ساتھ ساتھ محدود اور ہدفی فوجی کارروائی کو بھی بطور دباؤ استعمال کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹی ٹی پی افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، ٹھوس شواہد موجود ہیں: علی امین گنڈا پور

ستمبر اور اکتوبر 2025 میں پاکستان نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں، تربیتی مراکز اور کمانڈ اسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کیے، جب کہ قیادت کو نشانہ بنانے کی ایک کوشش بھی کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں سفارتی رابطے بھی جاری رکھے گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا فوجی دباؤ اور سفارتی مکالمے کا یہ امتزاج طالبان کے رویے میں کوئی ٹھوس تبدیلی لا سکے گا یا نہیں، اور پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اس حکمتِ عملی میں توازن برقرار رکھنا ہوگا تاکہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

بنگلہ دیش اقوامِ متحدہ کے پیس بلڈنگ کمیشن کا وائس چیئر منتخب

امریکی امیگریشن پالیسیوں کا المیہ؛ بیمار بیٹے کا آخری دیدار بھی نصیب نہ ہوا

سی ٹی ڈی کی کارروائی کامیاب ، اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے 6 دہشتگرد ہلاک

سعودی سائنسدان عمر یغی کی 2025 کے کیمسٹری نوبل انعام پر سعودی تنظیم کی پذیرائی

ویڈیو

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

 خون جما دینے والی سردی کا توڑ لاندی جو گھروں سے نکل کر ہوٹل تک پہنچ گئی

خیبر پختونخوا میں آج بھی جنرل فیض کی ٹیم بیوروکریسی کے اہم عہدوں پر اور صوبے کی کرتا دھرتا ہے، اختیار ولی خان

کالم / تجزیہ

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے