ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، ناروے، سویڈن اور برطانیہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف سے متعلق دھمکیوں کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گرین لینڈ کے حوالے سے یورپی ممالک نے مشترکہ بیان میں کہاکہ وہ ڈنمارک کی حکومت اور گرین لینڈ کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، اور ڈنمارک میں ہونے والی فوجی مشقیں کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔ آرکٹک اینڈورنس مشقیں اتحادی ممالک سے مشاورت کے بعد کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: گرین لینڈ تنازع: ڈونلڈ ٹرمپ کا برطانیہ اور یورپی ممالک پر اضافی ٹیرف لگانے کا اعلان
بیان میں مزید کہا گیا کہ یورپی ممالک متحد ہیں اور اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔ صدر ٹرمپ کی ٹیرف کی دھمکیاں ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، اور گرین لینڈ کے مسئلے کو صرف بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب بلومبرگ کے مطابق یورپی یونین نے امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے پر عمل درآمد روکنے کے امکان پر غور شروع کر دیا ہے۔
یورپی پیپلز پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ موجودہ حالات میں معاہدے کی منظوری ممکن نہیں اور امریکی مصنوعات پر زیرو ٹیرف کی پالیسی کو مؤخر کرنا چاہیے۔
رپورٹس کے مطابق یورپی پیپلز پارٹی یورپی پارلیمنٹ کی سب سے بڑی جماعت ہے اور ای پی پی کے ساتھ چند دیگر جماعتیں مل کر تجارتی معاہدے کی منظوری روک سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے پر برطانیہ، ڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک کے خلاف اضافی تجارتی ٹیرف عائد کرنے کے منصوبے کا اعلان کردیا ہے۔ یہ اقدام نیٹو اتحادی ممالک کے ساتھ امریکا کے تعلقات میں ایک نئی کشیدگی کا باعث بن گیا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق یکم فروری سے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ سے امریکا بھیجی جانے والی تمام اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ یکم جون سے یہ شرح بڑھا کر 25 فیصد کر دی جائے گی۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ گرین لینڈ حاصل کرنے پر بضد، یورپی اتحادی ڈنمارک کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ ٹیرف اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک گرین لینڈ کے مکمل اور حتمی حصول سے متعلق کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔













