اسلام آباد میں بہار کے موسم میں سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی بڑی وجہ پیپر مولبیری کے درخت ہیں۔ شہر کے 29,000 خطرناک درخت ہٹائے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ 40,000 محفوظ پودے لگائے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کی صحت بہتر رہے اور ماحول بھی محفوظ رہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی، پولن الرجی سے نجات یا نیا ماحولیاتی بحران؟
پیپر مولبیری ایک ایسا درخت ہے جو زیادہ الرجی پیدا کرتا ہے اور اس کے پولن سے بہت سے لوگ بیمار ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے اسلام آباد میں بہار کے موسم میں دمہ اور سانس کی بیماریوں کے کیسز بڑھ جاتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس درخت کے پولن کی موجودگی میں دمہ کے حملے، پھیپھڑوں کی کمزوری اور اسپتال میں علاج لینے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ تقریباً آدھے شہر کے لوگ اس پولن کے لیے حساس ہیں اور مارچ میں روزانہ 80 سے 110 لوگ اسپتال پہنچتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ پیپر مولبیری صرف ایک عام درخت نہیں بلکہ سانس کے لیے خطرناک ہے۔ اس کے پولن کی مقدار عالمی حد سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اسپتال میں آنے والے مریضوں کی بڑی تعداد اس درخت سے متاثر ہوتی ہے۔
2023 سے 2025 کے دوران 29,000 خطرناک درخت ہٹائے گئے اور 40,000 محفوظ پودے لگائے گئے، جس سے الرجی کے کیسز میں 23 فیصد کمی آئی۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ درختوں کی سائنسی بنیاد پر دیکھ بھال نہ صرف لوگوں کی جان بچاتی ہے بلکہ ہسپتال پر بھی دباؤ کم کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا سخت ردعمل
اسلام آباد کا یہ قدم دنیا کے بڑے شہروں جیسے ٹوکیو، بارسلونا اور امریکا کی پالیسیوں کے مطابق ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صحت کی حفاظت اور ماحول کا خیال ایک ساتھ رکھا جا سکتا ہے۔ شہریوں کے لیے یہ نہ صرف سانس کی بیماریوں سے بچاؤ ہے بلکہ ایک واضح پیغام بھی ہے کہ صحت اور ماحول دونوں اہم ہیں۔













