کراچی کے ایک اسپتال میں مبینہ طبی غفلت کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس میں ایک خاتون نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بزرگ والد کو اسپتال کے عملے کی جانب سے غلط دوا دی گئی۔ ویڈیو میں خاتون کا کہنا ہے کہ دوا پر درج نام اورعمر ان کے والد سے مطابقت نہیں رکھتے جبکہ وہ دوا ایسی بیماری کے لیے تھی جس میں ان کے والد مبتلا ہی نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 3 ماہ میں 20 کلو وزن کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟
وائرل ویڈیو میں خاتون نے بتایا کہ جب انہوں نے اسپتال کے عملے سے دوا کے بارے میں استفسار کیا تو عملے نے بتایا کہ یہ تھائیرائیڈ کی دوا ہے۔ خاتون کے مطابق ان کے والد کو تھائیرائیڈ کی کوئی بیماری نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود عملے نے غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔
کراچی کی بہادر بیٹی جس نے والد کو غلط دوائی دینے پر ہسپتال انتظامیہ کو خوب سنائی۔ pic.twitter.com/MNT7GpOxGM
— صحرانورد (@Aadiiroy2) January 17, 2026
خاتون نے ویڈیو میں شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد بزرگ ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے ساتھ اس طرح کی لاپرواہی برتی جائے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ کسی غلط فہمی کا نہیں بلکہ واضح ثبوت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اسپتال انتظامیہ اور طبی عملے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ مریضوں اور ان کے لواحقین کا اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا خوش آئند ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سر درد کے علاج کا بھیانک انجام، خوفناک تجربے نے خاتون کی زندگی داؤ پر لگا دی
ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میڈیکل ڈاکٹرز اور عملے کی نااہلی، فرائض میں غفلت اور مریضوں یا ان کے ورثا کے ساتھ ناروا سلوک جیسے سنگین مسائل کو روکنے کے لیے سخت قانون سازی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجرم ڈاکٹرز کو جوابدہ بنانے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
کئی دیگر صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ اسپتال انتظامیہ اس واقعے کا نوٹس لے اور ذمہ دار افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔












