نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی و سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ سینیٹر پلوشہ کے ساتھ جو واقعہ ہوا وہ انتہائی شرمناک ہے، عبدالعلیم خان سے کہا ہے کہ وہ ہاؤس میں آکر معافی مانگیں۔
مزید پڑھیں: پلوشہ خان کی علیم خان کے خلاف تحریک استحقاق، اتحادیوں کے بیچ بدمزگی
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایسا رویہ کمیٹیوں میں پہلی بار دیکھا گیا، ہر ممبر کو سوال کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم بات ذاتیات پر نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد انہوں نے علیم خان سے بات کی اور کہا کہ بہتر ہوگا کہ وہ معافی مانگیں، جس پر علیم خان نے کہا کہ وہ پہلے ہی معافی مانگ چکے ہیں۔ تاہم ہم نے انہیں باور کرایا کہ جس انداز میں معافی دی گئی وہ درست نہیں تھا۔
انہوں نے کہاکہ میں نے علیم خان سے کہاکہ بہتر ہے کہ آپ قواعد کے مطابق یہ مسئلہ حل کریں۔ ’جب میں نے ان سے پوچھا کہ وہ کب آئیں گے تو انہوں نے بتایا کہ وہ عمرہ کے لیے گئے ہیں اور 25 جنوری کو واپس آئیں گے۔‘
شیری رحمان کے مطابق انہوں نے علیم خان سے کہاکہ ہاؤس 27 تک چل رہا ہے، آپ آئیں اور ایوان میں سب کے سامنے معافی مانگیں۔
مزید پڑھیں: علیم خان کے ساتھ تلخی کیوں ہوئی؟ سینیٹر پلوشہ خان نے اصل وجہ بتا دی
واضح رہے کہ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان اور سینیٹر پلوشہ خان سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں آمنے سامنے آگئے تھے۔













