سینیٹ نے پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت تعزیرات پاکستان میں نئی دفعہ 297 الف شامل کی گئی ہے۔ یہ ترمیم جاود اور جادو ٹونا کی روک تھام کے لیے پیش کی گئی ہے۔
منظور شدہ بل کے مطابق، جو بھی شخص جادو ٹونا کرے یا اس کی تشہیر کرے گا، اسے 6 ماہ سے 7 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے جبکہ جرم کے مرتکب پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: سید عاصم منیر سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟ فیلڈ مارشل کی نئی تقرری پر مریم نواز کا تبصرہ
اسی اجلاس میں سینیٹ نے وفاقی نصاب اور نصابی کتب سے متعلق بل کو بھی منظور کر لیا، جسے سینیٹر عینی مری نے پیش کیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان میں جادو ٹونے کے خلاف کوئی مخصوص قانون موجود نہیں تھا۔
پاکستان میں جادو ٹونا کرنے اور کروانے والوں کی تعداد کتنی ہے؟
پاکستان میں جادو ٹونا کے حوالے سے اگرچہ کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں، لیکن مختلف تحقیقی رپورٹس اور مشاہدات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں جادو، سحر اور عاملوں پر یقین رکھنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کی ایک تحقیق کے مطابق دیہی علاقوں میں تقریباً 55 فیصد اور شہری علاقوں میں 45 فیصد افراد جادو ٹونا پر یقین رکھتے ہیں۔ اگر پاکستان کی کل آبادی کو مدِنظر رکھا جائے تو اندازاً 12 سے 13 کروڑ افراد کسی نہ کسی درجے میں جادو یا روحانی اثرات پر یقین رکھتے ہیں۔ اس قدر بڑی آبادی میں سے لاکھوں افراد مختلف پیروں، عاملوں، نجومیوں یا روحانی معالجین سے رجوع کرتے ہیں۔
مختلف میڈیا رپورٹس کے ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک بھر میں کم از کم 60 ہزار سے لے کر 1.2 لاکھ کے درمیان ایسے افراد یا جعلی عاملین موجود ہیں جو جادو ٹونا، بندش، تعویذ، سحر اور ایسی ہی دیگر ’خدمات‘ فراہم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کالے کپڑے اور جادو والی بات ہوئی تھی‘: عمران اسماعیل نے بھی بشریٰ بی بی کا راز کھول دیا
صرف پنجاب میں 2016 کی ایک رپورٹ کے مطابق 10 ہزار سے زائد ایسے عاملین رجسٹرڈ یا فعال تھے۔ چونکہ یہ سرگرمیاں زیادہ تر غیر رسمی طریقے سے کی انجام دی جاتی ہیں، اس لیے ان کی درست تعداد معلوم کرنا مشکل ہے، تاہم سوشل میڈیا، اشتہارات اور اخبارات میں ان کی موجودگی سے یہ واضح ہے کہ جادو ٹونا کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ اور ان کا اثر عام زندگی پر خاصا گہرا ہے۔














