امریکی خارجہ پالیسی اخلاقی بحران کا شکار، کیتھولک رہنماؤں کی تنقید

منگل 20 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکہ کے 3 بڑے کیتھولک مذہبی رہنماؤں نے امریکی خارجہ پالیسی کو اخلاقی اصولوں سے متصادم قرار دیتے ہوئے اس پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شکاگو، واشنگٹن ڈی سی اور نیوآرک کے آرچ بشپ حضرات کا کہنا ہے کہ موجودہ امریکی خارجہ فیصلے لاکھوں انسانوں کو مستقل غیر یقینی، غربت اور خوف کے کنارے دھکیل رہے ہیں، جو نہ صرف مسیحی تعلیمات بلکہ عالمی انسانی اقدار کے بھی خلاف ہے۔

یو پی آئی کے مطابق شکاگو کے کارڈینل بلیز کپچ، واشنگٹن کے کارڈینل رابرٹ مک ایلرائے اور نیوآرک کے کارڈینل جوزف ٹوبن نے پیر کے روز ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس کا عنوان تھا ’امریکی خارجہ پالیسی کا اخلاقی نقشہ‘۔

یہ بیان پوپ لیو چهاردہم کی جانب سے ویٹی کن میں سفارت کاروں سے خطاب کے ڈیڑھ ہفتے بعد سامنے آیا، جس میں پوپ نے عالمی سیاست میں بڑھتی ہوئی جنگی سوچ پر خبردار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی گرین لینڈ ٹریڈ دھمکی، عالمی مارکیٹس میں ہلچل، ڈالر کمزور، یورپی صنعتیں پریشان

کارڈینل کپچ نے بیان کے ساتھ جاری پریس ریلیز میں کہا کہ بطور مذہبی پیشوا وہ خاموش نہیں رہ سکتے جب ایسے فیصلے کیے جا رہے ہوں جو کروڑوں انسانوں کو باعزت زندگی سے محروم کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پوپ لیو چهاردہم نے اخلاقی رہنمائی فراہم کر دی ہے، اب ضروری ہے کہ امریکہ اور اس کی قیادت ان اصولوں کو اپنی پالیسیوں پر لاگو کرے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جو عالمی اصول جنگ کو روکنے کے لیے بنائے گئے تھے، وہ اب بری طرح کمزور ہو چکے ہیں۔ آرچ بشپ حضرات کے مطابق وینزویلا، یوکرین اور گرین لینڈ جیسے تنازعات یہ سوال کھڑا کرتے ہیں کہ طاقت کے استعمال، امن کے مفہوم اور دنیا میں امریکہ کے کردار کو کس نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

بیان میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ قوموں کے حقِ خود ارادیت کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے، جبکہ قومی مفادات اور اجتماعی بھلائی کے درمیان توازن کو انتہا پسندانہ سیاسی تقسیم میں الجھا دیا گیا ہے۔

مذہبی رہنماؤں نے کہا کہ امریکہ کا اخلاقی کردار، انسانی جان و وقار کا تحفظ اور مذہبی آزادی کی حمایت آج سخت جانچ کے مرحلے میں ہے۔

آرچ بشپ حضرات نے واضح طور پر جنگ کو محدود قومی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی مذمت کی اور کہا کہ فوجی طاقت صرف انتہائی مجبوری میں آخری حل کے طور پر استعمال ہونی چاہیے، نہ کہ معمول کی پالیسی کے طور پر۔ ان کا زور تھا کہ امریکی خارجہ پالیسی میں معاشی امداد اور سفارتی مکالمے کو مرکزی حیثیت دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا بمقابلہ کیوبا اور وینزویلا: تعلقات میں کشیدگی کی اصل وجوہات کیا ہیں؟

یہ بیان پوپ لیو چهاردہم کے اس مؤقف کی بازگشت ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ طاقت پر مبنی سفارت کاری، مکالمے اور اتفاقِ رائے کی جگہ لے رہی ہے، اور بدقسمتی سے جنگ دوبارہ قابلِ قبول راستہ بنتی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پریانکا چوپڑا ملک چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟ بالی ووڈ پروڈیوسر کے انکشافات

بھاٹی گیٹ سانحہ: وزیر اطلاعات پنجاب سمیت افسران کیخلاف مقدمے کی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر

تیراہ آپریشن: پاکستان کے دہشتگرد مخالف اقدامات کے حقائق عوام کے سامنے

سپریم کورٹ: 40 تولہ حق مہر پر اعتراض، چیف جسٹس کا شوہر کو ادائیگی کا مشورہ

اسلام آباد میں نئے کنونشن سینٹر کی تعمیر، محسن نقوی کا مجوزہ جگہ کا دورہ

ویڈیو

سخت شرائط کے باوجود اسٹینڈ بائی پروگرام حاصل کیا اور پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالا، شہباز شریف

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

 خون جما دینے والی سردی کا توڑ لاندی جو گھروں سے نکل کر ہوٹل تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے