امریکہ کے 3 بڑے کیتھولک مذہبی رہنماؤں نے امریکی خارجہ پالیسی کو اخلاقی اصولوں سے متصادم قرار دیتے ہوئے اس پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شکاگو، واشنگٹن ڈی سی اور نیوآرک کے آرچ بشپ حضرات کا کہنا ہے کہ موجودہ امریکی خارجہ فیصلے لاکھوں انسانوں کو مستقل غیر یقینی، غربت اور خوف کے کنارے دھکیل رہے ہیں، جو نہ صرف مسیحی تعلیمات بلکہ عالمی انسانی اقدار کے بھی خلاف ہے۔
Three U.S. Catholic archbishops on Monday decried the direction of American foreign policy, saying the country's "moral role in confronting evil around the world" was in question and that military action must only be used as an extreme last resort. https://t.co/ccK9OuyQFR
— Hümeyra Pamuk (@humeyra_pamuk) January 19, 2026
یو پی آئی کے مطابق شکاگو کے کارڈینل بلیز کپچ، واشنگٹن کے کارڈینل رابرٹ مک ایلرائے اور نیوآرک کے کارڈینل جوزف ٹوبن نے پیر کے روز ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس کا عنوان تھا ’امریکی خارجہ پالیسی کا اخلاقی نقشہ‘۔
یہ بیان پوپ لیو چهاردہم کی جانب سے ویٹی کن میں سفارت کاروں سے خطاب کے ڈیڑھ ہفتے بعد سامنے آیا، جس میں پوپ نے عالمی سیاست میں بڑھتی ہوئی جنگی سوچ پر خبردار کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی گرین لینڈ ٹریڈ دھمکی، عالمی مارکیٹس میں ہلچل، ڈالر کمزور، یورپی صنعتیں پریشان
کارڈینل کپچ نے بیان کے ساتھ جاری پریس ریلیز میں کہا کہ بطور مذہبی پیشوا وہ خاموش نہیں رہ سکتے جب ایسے فیصلے کیے جا رہے ہوں جو کروڑوں انسانوں کو باعزت زندگی سے محروم کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پوپ لیو چهاردہم نے اخلاقی رہنمائی فراہم کر دی ہے، اب ضروری ہے کہ امریکہ اور اس کی قیادت ان اصولوں کو اپنی پالیسیوں پر لاگو کرے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جو عالمی اصول جنگ کو روکنے کے لیے بنائے گئے تھے، وہ اب بری طرح کمزور ہو چکے ہیں۔ آرچ بشپ حضرات کے مطابق وینزویلا، یوکرین اور گرین لینڈ جیسے تنازعات یہ سوال کھڑا کرتے ہیں کہ طاقت کے استعمال، امن کے مفہوم اور دنیا میں امریکہ کے کردار کو کس نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
Top U.S. Catholic clerics said that the U.S.'s “moral role in confronting evil around the world” is in question for the first time in decades. https://t.co/cNxxzDYsm5
— The New York Times (@nytimes) January 19, 2026
بیان میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ قوموں کے حقِ خود ارادیت کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے، جبکہ قومی مفادات اور اجتماعی بھلائی کے درمیان توازن کو انتہا پسندانہ سیاسی تقسیم میں الجھا دیا گیا ہے۔
مذہبی رہنماؤں نے کہا کہ امریکہ کا اخلاقی کردار، انسانی جان و وقار کا تحفظ اور مذہبی آزادی کی حمایت آج سخت جانچ کے مرحلے میں ہے۔
Are Catholic Bishops Challenging the Moral Basis of US Foreign Policy? Washington, Jan 20 (NationPress) – Three leading Catholic figures in the United
States have jointly expressed significant concerns about the ethical
underpinnings of the nation’s… https://t.co/1GenH1hoof pic.twitter.com/h2ETg0oZeI— NationPress (@np_nationpress) January 20, 2026
آرچ بشپ حضرات نے واضح طور پر جنگ کو محدود قومی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی مذمت کی اور کہا کہ فوجی طاقت صرف انتہائی مجبوری میں آخری حل کے طور پر استعمال ہونی چاہیے، نہ کہ معمول کی پالیسی کے طور پر۔ ان کا زور تھا کہ امریکی خارجہ پالیسی میں معاشی امداد اور سفارتی مکالمے کو مرکزی حیثیت دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا بمقابلہ کیوبا اور وینزویلا: تعلقات میں کشیدگی کی اصل وجوہات کیا ہیں؟
یہ بیان پوپ لیو چهاردہم کے اس مؤقف کی بازگشت ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ طاقت پر مبنی سفارت کاری، مکالمے اور اتفاقِ رائے کی جگہ لے رہی ہے، اور بدقسمتی سے جنگ دوبارہ قابلِ قبول راستہ بنتی جا رہی ہے۔














