امریکا کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم اور علامتی لمحہ اس وقت سامنے آیا جب غزالہ ہاشمی نے نائب گورنر کے عہدے کا حلف قرآنِ پاک پر اٹھا کر نئی تاریخ رقم کر دی۔ اس موقع کو امریکا میں مذہبی آزادی، تنوع اور جمہوری اقدار کی ایک نمایاں مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ظہران ممدانی نے قرآن کے 3 نسخوں پر حلف کیوں لیا؟
امریکی میڈیا کے مطابق امریکا میں پہلی مرتبہ کسی مسلم خاتون نے نائب گورنر کے منصب کا حلف قرآنِ پاک پر اٹھایا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق غزالہ ہاشمی نے حلف برداری کی تقریب میں قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالنے کا حلف لیا، جسے ملک بھر میں ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

غزالہ ہاشمی کا تعلق ایک مسلمان خاندان سے ہے اور وہ طویل عرصے سے عوامی خدمت اور سیاست سے وابستہ رہی ہیں۔ ان کی حلف برداری کی تقریب میں منتخب نمائندوں، سرکاری حکام اور مختلف کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران مذہبی رواداری اور آئینی وفاداری کے پیغام کو نمایاں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ظہران ممدانی نے قرآنِ مجید پر حلف اٹھانے کی تاریخی اہمیت بتا دی
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق غزالہ ہاشمی کا قرآنِ پاک پر حلف اٹھانا اس بات کی علامت ہے کہ امریکا میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو آئین کے تحت مکمل آزادی حاصل ہے اور وہ اعلیٰ سرکاری مناصب پر فائز ہو سکتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق یہ قدم امریکی معاشرے میں شمولیت اور مساوات کے تصور کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

غزالہ ہاشمی نے حلف برداری کے بعد مختصر بیان میں کہا کہ وہ آئین کی پاسداری، قانون کی حکمرانی اور تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اعزاز صرف ان کا نہیں بلکہ ان تمام افراد کا ہے جو مذہبی اور ثقافتی تنوع پر یقین رکھتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق غزالہ ہاشمی کی کامیابی امریکا میں مسلم کمیونٹی، بالخصوص مسلم خواتین کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کی حلف برداری کی تصاویر اور ویڈیوز کو بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے، جہاں صارفین اسے ایک مثبت اور تاریخی لمحہ قرار دے رہے ہیں۔












