مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں ایک طرف ایران نے جاری عوامی احتجاج کے پس منظر میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حالات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سخت سزا دینے کی دھمکی دی ہے، تو دوسری جانب اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ اگر اس کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کی گئی تو وہ غیر معمولی نوعیت کی فوجی طاقت استعمال کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق وہ کسی بھی اچانک جنگی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ پر ہے۔
Will Ali Khamenei step down as Supreme Leader of Iran by Jan 31?
I put 1,000$ on him staying
What the last days actually showed
Jan 18
→ Khamenei appears publicly
→ Declares protests crushed
→ Issues harsher internal and external ordersReality on the ground
> Nationwide… pic.twitter.com/oKAZrYSjvV— Egich. (@Egichzz) January 18, 2026
اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کے جواب میں ایسی جارحانہ صلاحیت بروئے کار لائی جا سکتی ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ فوجی حکام کے مطابق ممکنہ سرپرائز جنگ کے خدشے کے پیش نظر تمام دفاعی اور حملہ آور نظام تیار حالت میں رکھے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سپریم لیڈر کے خلاف کسی بھی حملے کو اعلان جنگ سمجھا جائےگا، ایرانی صدر نے خبردار کردیا
دوسری طرف ایران میں انٹرنیٹ بندش بارہویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ نیٹ بلاکس کے مطابق ملک بھر میں انٹرنیٹ کنیکٹیوٹی انتہائی محدود ہے، جبکہ حکام ایک سخت فلٹر شدہ مقامی انٹرانیٹ نظام آزما رہے ہیں، جس کے ذریعے کبھی کبھار پیغامات کی ترسیل ممکن ہو رہی ہے۔ اس بندش کے باعث احتجاجی مظاہروں اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی درست معلومات سامنے آنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ کے مطابق مظاہرین کو بسیج کے اڈوں اور پولیس مراکز کے قریب فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ حتمی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار بعد میں جاری کیے جائیں گے۔

یورپی ممالک کے قانون سازوں نے ایران میں سزائے موت کے واقعات پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ امریکی سینیٹرز نے ایرانی قیادت کے خلاف مزید سخت اقدامات کی اپیل کی ہے۔
ادھر ایران نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہرایا ہے، جبکہ ریاستی ٹی وی کے سیٹلائٹ چینلز پر سائبر حملوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ بیرونِ ملک ایرانی تارکینِ وطن کی جانب سے احتجاجی مظاہرے بدستور جاری ہیں۔














