وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ٹوئٹ کے ذریعے اعلان کیا کہ صوبائی حکومت نے گورننس کی بہتری اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان میں 2 نئے ڈویژن پشین اور کوہ سلیمان کا قیام، مسنگ پرسنز کے مسئلے کا مستقل حل، اور سرکاری ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق شامل ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے مطابق صوبائی حکومت نے گورننس کی مضبوطی اور میرٹ کے فروغ کے لیے بلوچستان کابینہ کے اجلاس میں 2 نئے ڈویژن پشین اور کوہ سلیمان بنانے کی منظوری دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان: سی ٹی ڈی کی مستونگ میں کارروائی، 5 دہشتگرد ہلاک
انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ مزید ڈویژن اور اضلاع بنانے پر بھی کام جاری ہے تاکہ عوام کی محرومیوں کا ازالہ کیا جا سکے اور انہیں ریاست کے ساتھ جوڑا جا سکے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ صوبے میں مسنگ پرسنز کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کر دیا گیا ہے۔ مختلف سیاسی حلقوں نے اس ایشو پر صرف سیاست چمکائی اور ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن اب قانونی اور انتظامی اقدامات کے ذریعے اس مسئلے کا عملی حل نکالا گیا ہے۔ مشتبہ افراد سے تفتیش مجاز پولیس افسر کی نگرانی میں ہوگی، اور ان کے فیملی ممبرز کو ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔
بلوچستان میں گورننس کی بہتری کے لئے ہم نے بلوچستان کابینہ کے اجلاس میں دو نئے ڈویژن پشین اور کوہ سلیمان بنانے کی منظوری دے دی ہے۔ مزید ڈیویژن اور اضلاع بنانے پر بھی کام جاری ہے۔ گڈ گورننس اور میرٹ کے ذریعے سے ہی ہم بلوچستان کی عوام کی محرومیوں کا ازالہ کر کے ان کو ریاست کے ساتھ…
— Sarfraz Bugti (@PakSarfrazbugti) January 20, 2026
وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ سرکاری ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق کا عمل جلد شروع کیا جائے گا، جس کے تحت جعلی ڈگری ہولڈرز کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس عمل کا آغاز ڈیرہ بگٹی اور نصیرآباد سے کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ اقدامات گڈ گورننس اور میرٹ کے فروغ کے لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ بلوچستان کی عوام کی محرومیوں کا ازالہ کیا جا سکے اور انہیں ریاست کے نظام کے ساتھ جوڑا جا سکے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے 22 ویں اجلاس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں بلوچستان سینٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریزم رولز 2025 کی منظوری دی گئی جبکہ بلوچستان پریوینشن ڈیٹینشن اینڈ ریڈیکلائیزیشن رولز 2025 اور وٹنیس پروٹیکشن ترمیمی بل 2025 بھی منظور کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:سرکاری نوکریاں آن لائن میرٹ پر تقسیم ہوں گی، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا اعلان
کابینہ نے محکمہ مذہبی امور کو ختم کرنے اور ملازمین کو دیگر محکموں میں ایڈجسٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں ضلع پشین میں میونسپل کمیٹی کربلا کے قیام اور زیارت کو انتظامی طور پر لورالائی کا حصہ بنانے کے اقدامات بھی شامل تھے۔ 16 سال سے کم عمر بچوں سے جبری مشقت روکنے اور ہائیر ٹیکنیکل ایجوکیشن کو لازمی سروسز قرار دینے کے فیصلے بھی کابینہ نے کیے۔
علاوہ ازیں صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق کے عمل، جعلی ڈگری ہولڈرز کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور نصاب و تعلیم میں اصلاحات کے متعدد اقدامات کی منظوری دی۔ فوڈ اسٹریٹ کے قیام کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی جبکہ مڈل، ہائی اور ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں ایڈہاک ٹیچرز کی بھرتی کا بھی فیصلہ کیا گیا۔














