4 سال بعد عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کی تیاری، پاکستان کی معاشی استحکام کی جانب اہم پیشرفت

بدھ 21 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے تقریباً 4 برس کے وقفے کے بعد عالمی بانڈ مارکیٹ میں دوبارہ داخل ہونے کی تیاری شروع کر دی ہے، جسے معیشت میں بہتری، افراطِ زر میں نمایاں کمی، زرِ مبادلہ کے مستحکم ذخائر اور ساختی اصلاحات کے ثمرات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی اقتصادی فورم ڈیووس میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اس پیشرفت کو پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی معاشی سمت کا عکاس قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری میں بھی چین نے مدد کی یقین دہانی کرائی ہے، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں مالیاتی مشیروں کے انتخاب کے لیے درخواستیں طلب کرے گی، جس کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ ڈالر بانڈ، یورو بانڈ، سکوک یا ان میں سے کسی امتزاج کے ذریعے فنڈز اکٹھے کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان پہلی مرتبہ چینی کرنسی میں جاری کیے جانے والے پانڈا بانڈ کی تیاری بھی کر رہا ہے، جس کا اجرا آئندہ ہفتوں میں متوقع ہے۔

وزیرِ خزانہ کے مطابق پاکستان کے اہم معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ افراطِ زر، جو ایک وقت میں تقریباً 40 فیصد تک پہنچ چکا تھا، اب سنگل ڈیجٹ میں آ چکا ہے، شرحِ سود اور مالی دباؤ میں کمی آئی ہے اور ملک دوبارہ پرائمری فِسکل سرپلس کی جانب لوٹ آیا ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری بھی اسی اعتماد کا مظہر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زرِ مبادلہ کے ذخائر جون تک درآمدات کے 3 ماہ کے برابر ہونے کی توقع ہے، جو عالمی سطح پر ایک اہم معیار سمجھا جاتا ہے۔ وزیرِ خزانہ کے مطابق گزشتہ تقریباً 18 ماہ سے پاکستانی روپے میں مجموعی استحکام برقرار ہے، جس کی وجہ بہتر بیلنس آف پیمنٹس، ترسیلاتِ زر میں اضافہ اور خدمات کے شعبے کی برآمدات میں بہتری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کاروباری مواقع فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری اصلاحاتی پروگرام کے تحت ہونے والی پیش رفت کا بھی ذکر کیا، جس میں نجکاری، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور سرکاری اداروں میں اصلاحات شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ماہ قومی ایئرلائن فروخت کی جا چکی ہے، نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل میں حصص کی فروخت پر غور ہو رہا ہے، بڑے ہوائی اڈوں کے انتظامی امور آؤٹ سورس کرنے کی تیاری ہے اور تقریباً دو درجن سرکاری اداروں میں حصص فروخت کیے جانے کا منصوبہ ہے۔

وزیرِ خزانہ نے زور دیا کہ حکومت کا ہدف درآمدات پر مبنی ترقی کے بجائے برآمدات پر مبنی معاشی نمو کی طرف جانا ہے، تاکہ بار بار پیدا ہونے والے بیلنس آف پیمنٹس کے بحران سے بچا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیرپا معاشی استحکام کے لیے اصلاحات کے عمل کو مستقل طور پر جاری رکھنا ناگزیر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران پر ممکنہ حملہ: برطانیہ کا امریکا کو فوجی اڈے دینے سے انکار

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو 10 سے 15 دن کی ڈیڈ لائن، معاہدہ نہ ہوا تو ’سنگین نتائج‘ کی دھمکی

غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں وزیراعظم نے فلسطینی مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا، عطا اللہ تارڑ

سعودی عرب نے سابق امریکی سینٹکام کمانڈر کو کنگ عبدالعزیز میڈل سے نواز دیا

’عمران خان رہائی فورس‘ کے قیام میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی؟

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ