بلوچستان گرینڈ الائنس کے احتجاج پر پولیس کریک ڈاؤن، صدر قدوس کاکڑ گرفتار

بدھ 21 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کوئٹہ میں بلوچستان گرینڈ الائنس کی جانب سے سرکاری ملازمین کے مطالبات کے حق میں احتجاج اور ممکنہ پریس کانفرنس کے پیشِ نظر پولیس کی جانب سے دوسرے روز بھی کریک ڈاؤن جاری رہا۔

شہر کے مختلف علاقوں میں گرینڈ الائنس کے رہنماؤں اور کارکنان کی گرفتاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

پولیس نے بلوچستان گرینڈ الائنس کے صدر قدوس کاکڑ سمیت متعدد رہنماؤں کو حراست میں لے لیا، جبکہ گزشتہ روز بھی کئی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس کی بھاری نفری کوئٹہ پریس کلب اور اطراف کے علاقوں میں تعینات رہی تاکہ کسی بھی ممکنہ احتجاج یا پریس کانفرنس کو روکا جا سکے۔

منان چوک پر سرکاری ملازمین اور پولیس آمنے سامنے آ گئے، جہاں صورتحال کچھ دیر کے لیے کشیدہ رہی۔

احتجاج میں خواتین ملازمین کی بڑی تعداد بھی شریک تھی، جنہوں نے گرفتاریوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

پولیس کارروائی کے دوران سرکاری ملازمین کی جانب سے گرفتاریوں کے خلاف مزاحمت بھی دیکھنے میں آئی۔

کوئٹہ پولیس کے مطابق امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ گرینڈ الائنس کے رہنماؤں نے پولیس کریک ڈاؤن کو پرامن احتجاج کو دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

حالات کے پیش نظر شہر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور مزید گرفتاریوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

بنگلہ دیش اقوامِ متحدہ کے پیس بلڈنگ کمیشن کا وائس چیئر منتخب

امریکی امیگریشن پالیسیوں کا المیہ؛ بیمار بیٹے کا آخری دیدار بھی نصیب نہ ہوا

سی ٹی ڈی کی کارروائی کامیاب ، اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے 6 دہشتگرد ہلاک

سعودی سائنسدان عمر یغی کی 2025 کے کیمسٹری نوبل انعام پر سعودی تنظیم کی پذیرائی

ویڈیو

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

 خون جما دینے والی سردی کا توڑ لاندی جو گھروں سے نکل کر ہوٹل تک پہنچ گئی

خیبر پختونخوا میں آج بھی جنرل فیض کی ٹیم بیوروکریسی کے اہم عہدوں پر اور صوبے کی کرتا دھرتا ہے، اختیار ولی خان

کالم / تجزیہ

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے