5 جی اور پے پال کا انتظار ختم: وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے موبائل ٹیکسز میں کمی کی بھی خوشخبری سنادی

بدھ 21 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں 5G سروس کی لانچنگ 26 سے 28 فروری کے درمیان متوقع ہے، جس کے بعد صارفین کو تیز رفتار انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ 4G سروس میں بھی واضح بہتری نظر آئے گی۔

وی نیوز ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ نے بتایا کہ حکومت پے پال کو پاکستان میں متعارف کرانے کے لیے عملی پیشرفت کر رہی ہے، جبکہ ملک کا سب سے بڑا اثاثہ نوجوان آبادی ہے جن کی اوسط عمر صرف 22 سال ہے اور یہی نوجوان ڈیجیٹل معیشت کا مستقبل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کو 5G کے نفاذ کے لیے کیا قیمت ادا کرنی پڑے گی؟

شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ اسپیکٹرم پالیسی کو ون ٹائم ریونیو کے بجائے لانگ ٹرم ڈیجیٹل گروتھ کے تناظر میں ترتیب دیا جا رہا ہے، کیونکہ کسی بھی ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد سستا، مستحکم اور قابلِ رسائی انٹرنیٹ ہوتا ہے۔

5G اسپیکٹرم آکشن 26 سے 28 فروری کے درمیان متوقع ہے اور ابتدائی مہینوں میں ہی صارفین کو انٹرنیٹ اسپیڈ اور کوالٹی میں فرق محسوس ہوگا۔

انٹرنیٹ کی سست روی پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ سب میرین کیبلز کی کمی، فائبرائزیشن کے مسائل، اسپیکٹرم کی قلت اور موبائل کنجیشن بنیادی وجوہات ہیں، تاہم نئی سب میرین کیبلز، فائبر پالیسی اور اسپیکٹرم آکشن کے بعد صورتحال میں نمایاں بہتری آئے گی۔

ملک کی اکثریت فائبر انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے، اس لیے ہم فائبرائزیشن کو اپگریڈ کر رہے ہیں، اسپیکٹرم آکشن کے بعد چیزیں بہت بہتر ہوجائیں گی۔ سٹیلائٹ آپریشن پر بھی کام کررہے ہیں اس میں مزید وقت درکار ہے لیکن جلد اس کو بھی مکمل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:حکومتِ پاکستان نے 5G  اسپیکٹرم نیلامی کے لیے بنیادی قیمتوں کی منظوری دے دی

شزا فاطمہ نے پیمنٹ گیٹ ویز سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کوشش کررہی ہے کہ پے پال سمیت مختلف سروسز کو اس سال متعارف کرایا جائے۔ اس وقت معیشت درست سمت پر ہے تو بہت ضروری ہے کہ ان سروسز کو جلد از جلد پاکستان لایا جائے۔

پے پال سمیت عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو پاکستان لانے کے لیے مختلف ماڈلز پر غور کیا جا رہا ہے۔

ڈیجیٹل ادائیگیوں کے حوالے سے شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ حکومت ڈیجیٹل پیمنٹس کے نظام کو مضبوط بنانے پر کام کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کیش لیس ٹیکنالوجی پر بہت کام کیا ہے اسلام آباد کے اندر کسی بھی جگہ اگر کارڈ پیمنٹ نا ہورہی ہو تو پاک ایپ پر کمپلینٹ کریں اسی وقت سی ڈی اے ایکشن لے گا۔

انہوں نے رمضان پیکیج کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 8 لاکھ خواتین نے ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے مالی معاونت حاصل کی، جس سے شفافیت اور مالی شمولیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان میں پہلی بار انڈس اے آئی ویک منعقد کیا جا رہا ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کے اے آئی وژن کو پیش کرنا، بین الاقوامی ماہرین کو پاکستان لانا اور عوامی سطح پر مصنوعی ذہانت سے متعلق آگاہی اور تربیت کو فروغ دینا ہے۔ اسلام آباد میں بچوں اور نوجوانوں کے لیے ٹریننگ سیشنز، روبوٹکس ایکسپیرینس سینٹرز، گیمنگ، ڈیٹا ویژولائزیشن اور انڈسٹری ایکسپو بھی منعقد کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:5G اسپیکٹرم نیلامی کی تیاری مکمل، جدید بینڈز پہلی بار دستیاب، وفاقی وزیر آئی ٹی کی پریس کانفرنس

نان ٹیک لوگوں کے لیے ٹریننگ سیشنز لارہے ہیں، صوبائی حکومتوں اور یونیورسٹیز سمیت دیگر اداروں کے ساتھ مل کر ایورینیس کے لیے ملک بھر میں 50کے قریب ایونٹ منعقد کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موبائل فونز پر جو ٹیکس عائد ہے وہ ایف بی آر کی طرف سے ہے، ملک بھر میں 95 فیصد لوگ لوکل موبائل فونز استعمال کرتے ہیں۔ باہر سے آنے والے فونز پر جو ٹیکس عائد ہے وہ 5فیصد لوگوں پر عائد ہوتا ہے۔

حکومت کی کوشش ہے کہ موبائل فونز پر عائد ٹیکسز کو کم کریں، اس پر مشاورت جاری ہے۔

اے آئی کے منفی استعمال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ فیک ویڈیوز، فیک آڈیوز اور ڈیپ فیکس ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں، کیونکہ اے آئی اب اتنی ریئلسٹک ہو چکی ہے کہ نیکڈ آئی سے فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کی اے آئی پالیسی میں سیکیور اور ایتھیکل اے آئی کو باقاعدہ ستون کی حیثیت دی گئی ہے اور اے آئی جنریٹڈ کنٹینٹ کی ٹیگنگ کے لیے بگ ٹیک کمپنیوں سے بھی رابطے میں ہیں۔

آج کل کے بچے ورچوئل ریئلٹی میں زندگی گزار رہے ہیں، اے کے حوالے سے ایک نیا کورس لے کر آرہے ہیں جس سے بچوں کو مثبت تعلیم دے کر اے آئی کے غلط استعمال کو کم کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:5G اسپیکٹرم کی قیمتوں کا تعین، نیلامی کا طریقہ کار کیا ہوگیا؟ معاہدہ طے پاگیا

انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد میں پرائمری سے بارہویں جماعت تک اے آئی ایجوکیشن کو نصاب کا حصہ بنا دیا گیا ہے تاکہ بچوں کو کم عمری سے ہی ذمہ دار اور محفوظ ڈیجیٹل استعمال کی تربیت دی جا سکے۔

اگر صحافی اور نوجوان اے آئی ٹولز سے واقف ہوں تو ان کی پروڈکٹیوٹی کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پاکستان اس سال 7سے 8لاکھ بچوں کو ٹرینگ اور سرٹیفکیشن کورسز کرائے گی۔ نوجوان اپنا وقت ضائع کیے بغیر مختلف پروگرامز میں اپنے آپ کو رجسٹر کریں، اسٹارٹ اپ بیسڈ ٹریننگ میں حصہ لیں، سافٹ اسکلز کی ٹریننگ کریں۔ پاکستان کی آبادی کی میڈین ایج صرف 22 سال ہے، نوجوان ڈیجیٹل فرسٹ ہیں، اور اگر ماحول سازگار بنایا جائے تو پاکستان تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

انہوں نے انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیکیورٹی سے متعلق خدشات پر وزارت داخلہ کے خط آنے پر ٹارگٹڈ جگہوں پر انٹرنیٹ بند کیا جاتا ہے، اس میں بھی ہماری کوشش یہی ہوتی ہے کہ اکثریت اس سے متاثر نا ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شیطان نہیں ہوں، پاکستان اور انڈیا میں پولیو مہم کو فنڈز دیے تھے، جیفری ایپسٹین کا انٹرویو میں دعویٰ

غلام بلور نے پارلیمانی سیاست اور پشاور کو خداحافظ کہہ دیا

شکرپڑیاں میں درخت کاٹ کر میوزیم بنانے کی خبریں، حقیقت کیا ہے؟

کراچی جو کبھی سیاحوں کے لیے پرکشش شہر ہوا کرتا تھا اب اسے تندور سے کیوں تشبیہ دی جا رہی ہے؟

دریائے راوی کی زمین پر بننے والے رہائشی منصوبے ختم کیے جائیں، راوی بچاؤ تحریک کا مطالبہ

ویڈیو

دریائے راوی کی زمین پر بننے والے رہائشی منصوبے ختم کیے جائیں، راوی بچاؤ تحریک کا مطالبہ

لاہور میں بسنت کی تیاریاں جاری، پتنگوں سے پہلے ان کی قیمتیں آسمان پر

8 فروری: نوجوان بسنت منائیں گے یا ہڑتال کریں گے؟

کالم / تجزیہ

حادثے سے بڑا سانحہ

اگر جیفری ایپسٹین مسلمان ہوتا؟

بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ رو رہے تھے