سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، خاران بینک ڈکیتی کا ماسٹر مائنڈ بی ایل اے کمانڈر ہلاک

بدھ 21 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاک فوج نے ایک برق رفتار اور انتہائی مؤثر آپریشن میں دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کے بدنام زمانہ کمانڈر شنکر راج عرف زوہیر کو ہلاک کر دیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہی دہشتگرد چند روز قبل خاران بینک ڈکیتی کا مرکزی منصوبہ ساز تھا۔

مزید پڑھیں: بلوچستان: سی ٹی ڈی کی مستونگ میں کارروائی، 5 دہشتگرد ہلاک

وہی واردات جسے فورسز نے بروقت کارروائی سے ناکام بنایا اور 12 سے زیادہ مسلح دہشتگردوں کو موقع پر ہی ہلاک کیا۔

ذرائع کے مطابق شنکر راج کا اصل نام زوہیر تھا، جس نے بالی وڈ کے کردار پشپا راج سے متاثر ہوکر اپنی شناخت بدلی اور جرائم کی دنیا میں قدم رکھا۔ منشیات کی اسمگلنگ، مسلح کارروائیاں اور دہشتگرد نیٹ ورک کی قیادت ہر سنگین سرگرمی میں اس کا کردار سامنے آتا رہا۔

سیکیورٹی رپورٹس کے مطابق وہ صرف نارکوٹکس ڈیلر ہی نہیں تھا بلکہ خود بھی خطرناک نشہ آور اشیا استعمال کرتا تھا۔

خاران اور ملحقہ علاقوں میں دہشتگردی کی متعدد وارداتوں میں ملوث اس شخص پر متعدد قتل کے مقدمات درج تھے اور وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طویل عرصے سے مطلوب تھا۔

دہشتگرد کے قبضے سے انڈیا، افغانستان اور ایران کی شناختی دستاویزات بھی برآمد ہوئیں، جو سرحد پار روابط اور سہولت کاری کی طرف واضح اشارہ کرتی ہیں۔

ہلاک دہشتگرد شنکر راج کے ماہ رنگ بلوچ کے قریبی خاندانی حلقے سے روابط پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ماہ رنگ بلوچ کی کزن کلثوم بلوچ سے اس کی منگنی کی بات چلی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پرامن جدوجہد کے دعوؤں سے پردہ اٹھا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اس سے وابستہ شخصیات ریاستی اداروں پر الزامات عائد کرتی ہیں، جبکہ دوسری طرف انہی حلقوں کے گرد مسلح دہشتگرد عناصر کی موجودگی اور روابط مسلسل سامنے آتے رہے ہیں لیکن ان تضادات پر دانستہ خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔

سیکیورٹی حکام کا واضح مؤقف ہے کہ بی ایل اے کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں پوری شدت سے جاری رہیں گی اور خاران بینک ڈکیتی سمیت بلوچستان میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں گزشتہ سال دہشتگردوں کے خلاف 90 ہزار خفیہ آپریشنز، 700 سے زائد دہشتگرد ہلاک

’ریاست دشمن بیانیہ چاہے وہ بندوق کے ذریعے ہو یا نام نہاد انسانی حقوق کے لبادے میں، دونوں کو بے نقاب کیا جاتا رہے گا۔

اگر بلوچ یکجہتی کمیٹی کا بیانیہ واقعی پرامن ہے تو دہشتگردوں کے ساتھ یہ روابط اور خاموشی کیوں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈپریشن اور انگزائٹی خواتین کو بیماری کے خطرے کے قریب لے جا رہی ہیں

عمران خان کے آنکھوں کے علاج سے متعلق ذاتی معالج ڈاکٹر خرم مرزا کا اہم بیان سامنے آ گیا

صدر زرداری کا قومی کرکٹ ٹیم کی فتح پر اظہارِ مسرت

برطانیہ: جنسی جرائم اور ڈکیتی کے کیسز میں تاریخی اضافہ

اداکارہ علیزے شاہ کا معروف گلوکارہ شازیہ منظور پر بے ایمانی کا الزام

ویڈیو

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

 خون جما دینے والی سردی کا توڑ لاندی جو گھروں سے نکل کر ہوٹل تک پہنچ گئی

خیبر پختونخوا میں آج بھی جنرل فیض کی ٹیم بیوروکریسی کے اہم عہدوں پر اور صوبے کی کرتا دھرتا ہے، اختیار ولی خان

کالم / تجزیہ

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے

کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی