جاپان نے سونامی سے تباہ شدہ فوکوشیما نیوکلیئر پاور پلانٹ 15 سال بعد فعال کردیا

بدھ 21 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جاپان نے فوکوشیما جوہری حادثے کے تقریباً 15 سال بعد دنیا کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کو دوبارہ فعال کر دیا ہے، نیگاتا پریفیکچر میں واقع کاشیوازاکی کاریوا نیوکلیئر پاور پلانٹ بدھ کے روز دوبارہ شروع کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پاور پلانٹ 2011 میں آنے والے تباہ کن زلزلے اور سونامی کے بعد بند کر دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں فوکوشیما کے جوہری ری ایکٹرز میں شدید خرابی پیدا ہوئی تھی۔ اگرچہ گزشتہ ماہ علاقائی گورنر نے پلانٹ کی بحالی کی منظوری دی تھی، تاہم مقامی آبادی میں اس فیصلے پر شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جاپان: دنیا کا سب سے بڑا ایٹمی پاور پلانٹ 15 سال بعد بحالی کے قریب پہنچ گیا

پلانٹ کی بحالی کے خلاف منگل کے روز درجنوں مظاہرین، جن میں اکثریت بزرگ افراد کی تھی، سرد موسم اور برفباری کے باوجود پلانٹ کے داخلی راستے کے قریب احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ کاشیوازاکی میں پیدا ہونے والی بجلی ٹوکیو استعمال کرتا ہے، لیکن اس کے خطرات مقامی آبادی کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

ایک سروے کے مطابق تقریباً 60 فیصد مقامی باشندے پلانٹ کی بحالی کے مخالف ہیں جبکہ 37 فیصد اس کی حمایت کرتے ہیں۔ بجلی فراہم کرنے والی کمپنی نے کہا ہے کہ تمام تنصیبات کی سلامتی کا محتاط جائزہ لیا جائے گا اور کسی بھی مسئلے کو شفاف انداز میں حل کیا جائے گا۔

کاشیوازاکی کاریوا دنیا کا سب سے بڑا نیوکلیئر پاور پلانٹ ہے، تاہم اس وقت 7 میں سے صرف 1 ری ایکٹر کو دوبارہ فعال کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جاپان کے ایٹمی پروگرام کے افسر کا حساس معلومات پر مبنی اسمارٹ فون چین میں گم ہوگیا

جاپان نے 2011 کے بعد جوہری توانائی پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی، مگر اب ایندھن کی کمی، کاربن اخراج میں کمی، 2050 تک کاربن نیوٹرل ہدف اور مصنوعی ذہانت کے باعث بڑھتی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایٹمی توانائی کی طرف واپسی کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔

جاپان میں اب تک 14 جوہری ری ایکٹرز دوبارہ چلائے جا چکے ہیں، جن میں سے 13 جنوری کے وسط تک فعال تھے۔ کاشیوازاکی کاریوا وہ پہلا پاور پلانٹ ہے جسے 2011 کے بعد اسی آپریٹر نے دوبارہ شروع کیا ہے، جو فوکوشیما دائیچی پلانٹ کو بھی چلا رہا ہے، جہاں اب ڈی کمیشننگ کا طویل عمل جاری ہے۔

مقامی آبادی نے پلانٹ کے قریب 15 میٹر بلند سونامی دیوار، ہنگامی بجلی کے بہتر نظام اور دیگر حفاظتی اقدامات کے باوجود شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ کسی بڑے حادثے کی صورت میں انخلا ممکن نہیں ہوگا، جبکہ علاقہ زلزلہ فالٹ لائن پر واقع ہے اور 2007 میں یہاں شدید زلزلہ بھی آ چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روسی افواج کی دفاعی پوزیشن، یوکرینی نیوکلیئر پاور پلانٹ کی حفاظت خطرے میں

8 جنوری کو پلانٹ کی بحالی کے خلاف 7 تنظیموں نے تقریباً 40 ہزار دستخطوں پر مشتمل درخواست متعلقہ حکام کو جمع کرائی۔

 درخواست میں کہا گیا ہے کہ غیر متوقع زلزلے کا خوف ختم نہیں کیا جا سکتا اور صرف ٹوکیو کو بجلی فراہم کرنے کے لیے مقامی آبادی کو خوف اور خطرے میں ڈالنا ناقابل قبول ہے۔

جاپان اس وقت دنیا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے لحاظ سے پانچواں بڑا ملک ہے۔ 2023 میں تقریباً 70 فیصد بجلی کوئلہ، گیس اور تیل سے پیدا کی گئی، جسے حکومت آئندہ 15 سال میں کم کر کے 30 سے 40 فیصد تک لانا چاہتی ہے۔

حکومتی منصوبے کے تحت 2040 تک جوہری توانائی کا حصہ مجموعی توانائی میں تقریباً 20 فیصد تک بڑھایا جائے گا، جو مالی سال 2023-24 میں تقریباً 8.5 فیصد تھا۔

یہ بھی پڑھیں: چاند پر نیوکلیئر پاور پلانٹ: روس کی خلائی دوڑ میں نیا قدم

دوسری جانب فوکوشیما پاور پلانٹ کی مکمل بندش اور صفائی کا عمل اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے، جس کے مکمل ہونے میں کئی دہائیاں لگنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پریانکا چوپڑا ملک چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟ بالی ووڈ پروڈیوسر کے انکشافات

بھاٹی گیٹ سانحہ: وزیر اطلاعات پنجاب سمیت افسران کیخلاف مقدمے کی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر

تیراہ آپریشن: پاکستان کے دہشتگرد مخالف اقدامات کے حقائق عوام کے سامنے

سپریم کورٹ: 40 تولہ حق مہر پر اعتراض، چیف جسٹس کا شوہر کو ادائیگی کا مشورہ

اسلام آباد میں نئے کنونشن سینٹر کی تعمیر، محسن نقوی کا مجوزہ جگہ کا دورہ

ویڈیو

سخت شرائط کے باوجود اسٹینڈ بائی پروگرام حاصل کیا اور پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالا، شہباز شریف

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

 خون جما دینے والی سردی کا توڑ لاندی جو گھروں سے نکل کر ہوٹل تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے