وی ایکسکلوسیو: ’ہائبرڈ نظام‘ کا الزام بے بنیاد، ووٹ کی عزت کم نہیں ہوئی بڑھی ہے، پرویز رشید

جمعرات 22 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ پاکستان میں موجودہ نظامِ حکومت کو ’ہائبرڈ‘ قرار دینا حقائق کے برعکس ہے، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو چاروں صوبوں میں ایک جیسی پالیسیاں اور طرزِ حکمرانی نظر آتی، ووٹ کی عزت کم نہیں ہوئی بلکہ بڑھی ہے۔

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ ن پرویز رشید نے کہاکہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد زیادہ تر اختیارات صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں اور ہر صوبہ اپنی ترجیحات اور ماڈل کے مطابق کام کررہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اختیارات کسی ایک جگہ مرکوز نہیں۔

مزید پڑھیں: نواز شریف ملکی سیاست میں اہم کردار کیوں نہیں ادا کر رہے، رکاوٹ کون ہے؟

’اگر واقعی کوئی ہائبرڈ نظام ہوتا تو پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ایک جیسی پالیسیاں ہوتیں، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔‘

پرویز رشید نے ’ہائبرڈ نظام‘ کی اصطلاح کو گاڑی کی مثال سے واضح کرتے ہوئے کہاکہ جیسے کچھ گاڑیاں پیٹرول اور بجلی دونوں پر چلتی ہیں، ویسے ہی ریاست بعض اوقات مختلف وسائل اور اداروں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتی ہے، جس میں کوئی غیر جمہوری پہلو نہیں۔

خارجہ پالیسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ شہباز شریف کے دورِ حکومت میں کوئی ایسا فیصلہ نہیں ہوا جس سے یہ تاثر ملے کہ وزیراعظم کسی دباؤ کے تحت کام کررہے ہیں۔

’مجھے یا عوام کو کہیں یہ محسوس نہیں ہوا کہ وزیراعظم کچھ اور چاہتے تھے اور کسی اور قوت نے کچھ اور کروا دیا۔‘

’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے پر گفتگو کرتے ہوئے پرویز رشید نے پارلیمنٹ میں آرمی چیف کی موجودگی کو ایک علامتی واقعہ قرار دیا اور کہاکہ یہ پارلیمان اور عوامی نمائندوں کے احترام کا ثبوت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں عدالتوں کے ذریعے منتخب وزرائے اعظم کو ہٹایا گیا، جس سے جمہوری اداروں کو نقصان پہنچا۔

نواز شریف کی سیاسی موجودگی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ نواز شریف پارٹی کی رہنمائی کررہے ہیں اور اہم پالیسی فیصلوں پر شہباز شریف اور مریم نواز ان سے مشاورت کرتے ہیں۔

’وہ اس وقت سیاسی محاذ آرائی بڑھانے کے بجائے چاہتے ہیں کہ حکومت کارکردگی کے ذریعے عوام کو قائل کرے۔‘

’نواز شریف نے وزیراعظم نہ بننے کا فیصلہ خود کیا‘

الیکشن مہم کے دوران نواز شریف کو چوتھی بار وزیراعظم بنانے کے دعوے پر پرویز رشید نے وضاحت کی کہ یہ پارٹی کی خواہش تھی، کوئی جھوٹ نہیں ہے۔ ان کے مطابق حتمی فیصلہ انتخابی نتائج کے بعد نواز شریف نے خود کیا اور سب نے اسے قبول کیا۔

سیاسی مقدمات کے سوال پر پرویز رشید نے کہاکہ اگر عمران خان کے خلاف کوئی مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا تو وہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

تاہم ان کے بقول 9 مئی کے واقعات، بدعنوانی کے الزامات اور غیر ذمہ دارانہ زبان کے معاملات کو سیاسی مقدمات نہیں کہا جا سکتا۔

میڈیا کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ماضی میں میڈیا کو مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، کرکٹ اور شخصیات کو سیاست کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا، اور عمران خان کے دور میں بھی میڈیا کو ایک خاص سمت میں موڑا گیا۔

پرویز رشید نے کہاکہ اگرچہ سیاست میں تمام جماعتوں سے غلطیاں ہوئیں، لیکن ایک بات مشترک رہی کہ عوامی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی گئی۔

عمران خان نے اپنے دور میں عوامی مفاد میں کون سا کام کیا؟

انہوں نے سوال اٹھایا کہ عمران خان نے عوامی مفاد میں ایسا کون سا نمایاں کام کیا جو بطور مثال پیش کیا جا سکے؟

انہوں نے اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کی پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ سیاسی اختلاف کے باوجود شائستگی اور اخلاقی حدود کا خیال رکھنا جمہوری عمل کے لیے ضروری ہے۔

مریم نواز کی بحیثیت وزیراعلیٰ کارکردگی اور سیاست پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پہلے وہ ہم سے سیکھتی تھیں اب ہمیں ان سے سیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ جس تخلیقی صلاحیت کا وہ مظاہرہ کررہی ہیں اس سے پہلے کسی بھی وزیر اعلیٰ نے نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان آدھی مدت کے اقتدار کے معاہدے کی حقیقت کیا ہے؟

عدلیہ کے کردار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پرویز رشید نے کہاکہ سب سے زیادہ خطرناک عدلیہ ہے، ان کے خلاف بات کی جائے تو عدلیہ کی آزادی کے پیچھے چھپ جاتے ہیں اور کئی بار منتخب وزرائے اعظم کو گھر بھیجنے میں ان کا اہم کردار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھاٹی گیٹ سانحہ: وزیر اطلاعات پنجاب سمیت افسران کیخلاف مقدمے کی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر

تیراہ آپریشن: پاکستان کے دہشتگرد مخالف اقدامات کے حقائق عوام کے سامنے

سپریم کورٹ: 40 تولہ حق مہر پر اعتراض، چیف جسٹس کا شوہر کو ادائیگی کا مشورہ

اسلام آباد میں نئے کنونشن سینٹر کی تعمیر، محسن نقوی کا مجوزہ جگہ کا دورہ

سخت شرائط کے باوجود اسٹینڈ بائی پروگرام حاصل کیا اور پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالا، شہباز شریف

ویڈیو

سخت شرائط کے باوجود اسٹینڈ بائی پروگرام حاصل کیا اور پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالا، شہباز شریف

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

 خون جما دینے والی سردی کا توڑ لاندی جو گھروں سے نکل کر ہوٹل تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے