غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے میں اے ایف پی فری لانسر سمیت 3 صحافی جاں بحق ہوگئے ہیں۔
بدھ کے روز غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں اے ایف پی کے فری لانسر صحافی سمیت 3 فلسطینی صحافی جاں بحق ہو گئے۔ غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق حملہ غزہ سٹی کے جنوب مغرب میں الزہرہ کے علاقے میں کیا گیا، جہاں ایک شہری گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ صحافیوں کے لیے خطرناک ترین خطہ رہا ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
سول ڈیفنس کے بیان کے مطابق جاں بحق ہونے والے صحافیوں کی لاشیں دیر البلح میں واقع الاقصیٰ شہداء اسپتال منتقل کی گئیں۔ جاں بحق افراد میں محمد صلاح قشطہ، عبدالرؤف شعت اور انس غنیم شامل ہیں۔ عبدالرؤف شعت ماضی میں اے ایف پی کے لیے بطور فوٹو اور ویڈیو صحافی خدمات انجام دیتے رہے، تاہم حملے کے وقت وہ کسی اسائنمنٹ پر موجود نہیں تھے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وسطی غزہ میں حماس سے منسلک ایک ڈرون چلانے والے مشتبہ افراد کو نشانہ بنایا گیا، کیونکہ مذکورہ ڈرون فوجی اہلکاروں کے لیے خطرہ بن رہا تھا۔ فوج کے مطابق واقعے کی مزید تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق صحافی مصری ریلیف کمیٹی کی جانب سے امدادی سرگرمیوں کی کوریج کے لیے ڈرون کے ذریعے تصاویر بنا رہے تھے کہ اس دوران ان کے ساتھ موجود گاڑی پر حملہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ’45 دن ایسے گزرے جیسے 45 سال‘، فلسطینی صحافی کی غزہ میں اپنی رپورٹنگ پر مبنی یادداشتیں شائع
مصری ریلیف کمیٹی نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کی ایک گاڑی کو انسانی ہمدردی کے مشن کے دوران نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق ہوئے۔ کمیٹی کے ترجمان کے مطابق تمام گاڑیوں پر ادارے کا لوگو موجود ہوتا ہے۔
حماس نے اس حملے کو جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ فلسطینی صحافی یونین نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی صحافیوں کو منظم اور دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا کی ثالثی میں 10 اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں کشیدگی برقرار ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 466 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ بدھ کے روز مزید 8 فلسطینیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی، حملے میں 9 فلسطینی شہید
عالمی میڈیا واچ ڈاگ کے مطابق دسمبر 2024 سے دسمبر 2025 کے دوران غزہ میں کم از کم 29 فلسطینی صحافی مارے گئے، جبکہ اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں مجموعی طور پر تقریباً 220 صحافی جاں بحق ہو چکے ہیں، جس کے باعث غزہ دنیا بھر میں صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک علاقہ بن چکا ہے۔













