وزیرِ بحری امور محمد جنید انور نے ایک فیری سروس کے آغاز سے متعلق سوال کے جواب میں بتایا کہ حکومت ایران اور خلیجی ممالک کے لیے فیری سروس شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ان کے مطابق وزارتِ بحری امور نے پہلی ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل فیری سروس کے آپریشن کے لیے ایک کمپنی کو این او سی جاری کر دیا ہے، فیری سروس کا آغاز ابتدائی طور پر پاکستان سے ایران کے درمیان مذہبی سیاحت (ریلیجس ٹورزم) کے لیے کیا جائے گا، جس کے بعد اس کے روٹس میں بندر عباس، مسقط، بصرہ اور فجیرہ کو بھی شامل کیا جائے گا، یہ سروس سیاحت اور تجارتی مقاصد کے لیے مرحلہ وار بڑھائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: گہری دھند کے باعث بنگلہ دیش میں اہم دریائی راستوں پر فیری سروس معطل
وزیر بحری امور نے بتایا کہ اب تک ایم ایس سی کیپرز پرائیوٹ لیمٹڈ کو 22 اگست 2025 کو فیری سروس چلانے کے لیے این او سی اور لائسنس جاری کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق فیری سفر کا متوقع کرایہ 22 ہزار سے 25 ہزار روپے فی سفر (وویج) کے درمیان ہو سکتا ہے۔
وزیرِ بحری امور محمد جنید انور نے بتایا ہے کہ حکومت کے پاس اس وقت پاکستان کے اندر دریاؤں یا سمندری راستوں پر عوام کے لیے سستی اور سہل سفری سہولت فراہم کرنے کی غرض سے کوئی ڈومیسٹک فیری سروس شروع کرنے کا منصوبہ زیرِ غور نہیں، دریاؤں اور سمندر میں فیری سروس شروع کرنے کے حوالے سے یہی کہوں گا کہ ‘کاغذ کی کشتی اور بارش کا پانی’۔
یہ بھی پڑھیے: وفاقی وزیر بحری امور نے کراچی میں فیری ٹرمینل کا افتتاح کردیا
رکنِ قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں سوال کیا تھا کہ کیا حکومت ملک کے اندر دریاؤں اور سمندری راستوں پر فیری سروس شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اگر ایسا ہے تو کب تک یہ سروس شروع ہو گی۔
وزیرِ بحری امور نے واضح کیا کہ فی الحال ایسا کوئی منصوبہ موجود بھی نہیں اور زیر غور بھی نہیں ہے۔













