وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد کے پوش سیکٹر میں واقع 2 گھروں کے درمیان سرکاری اراضی کے استعمال کے تنازع پر فیصلہ سنادیا۔
عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل نمٹاتے ہوئے گھروں کو ملحقہ سرکاری اراضی کو بطور راستہ استعمال کی مشروط اجازت دے دی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے گھروں کے ساتھ سرکاری اراضی کے استعمال کو درست قرار دیا تھا، کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں آئینی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: ارشد شریف قتل کیس آخری مراحل میں، وفاقی آئینی عدالت کا کیس نمٹانے کا عندیہ
سی ڈی اے کے وکیل کے مطابق، درخواست گزار نے اراضی استعمال کرنے اور ضرورت پڑنے پر اسے واپس کرنے کا بیان حلفی دے رکھا ہے۔
عدالت نے بھی مشروط اجازت کی منظوری دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صرف متعلقہ کیس کی بات زیر غور آئے۔
سماعت کے دوران وکیل فیصل چوہدری نے حکومت کے آپریشنز اور کچی آبادیوں کی ہٹائی جانے والی اراضی کا ذکر کیا۔
تاہم جسٹس عامر فاروق نے انہیں ہدایت کی کہ وہ صرف اپنے کیس کی تفصیلات پر بات کریں۔
مزید پڑھیں: چیف جسٹس امین الدین خان نے وفاقی آئینی عدالت کی نئی عمارت کا افتتاح کردیا
وکیل فیصل چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق کسی کو ملحقہ سرکاری اراضی کے استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ان کا مؤقف تھا کہ سی ڈی اے کے پاس بیان حلفی پر اجازت دینے کی قانونی اتھارٹی نہیں ہے۔
عدالت نے اس معاملے میں مشروط اجازت دیتے ہوئے ممکنہ قانونی اثرات پر غور کے لیے ہدایات بھی جاری کیں۔













