پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں دوبارہ خریداری کا رجحان دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران 600 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔
دوپہر 12 بج کر 10 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 600.80 پوائنٹس یعنی 0.32 فیصد اضافے کے ساتھ 187,634.06 پوائنٹس پرٹریڈ کر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟
آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، فرٹیلائزر، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اور ریفائنریز سمیت اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔
ماری انرجیز، او جی ڈی سی، ایس این جی پی ایل، وافی، انڈس موٹر، لکی سیمنٹ، حبیب بینک لمیٹڈ، میزان بینک، ایم سی بی اور یو بی ایل سمیت انڈیکس پر زیادہ اثر رکھنے والے شیئرزسبز نشان میں ٹریڈ کرتے رہے۔
Market is up at midday 🚀
⏳ KSE 100 is positive by +575.81 points (+0.31%) at midday trading. Index is at 187,609.08 and volume so far is 265.3 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/NLHXVmC8yM— Investify Pakistan (@investifypk) January 22, 2026
ایک اہم پیش رفت میں مالی سال 26-2025 کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان کو موصول ہونے والی غیر ملکی امداد 4.51 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔
اقتصادی امور ڈویژن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے دسمبر 26-2025 کے دوران دو طرفہ قرضے اور گرانٹس 1.07 ارب ڈالر رہیں، جبکہ اسی مدت میں کثیر جہتی اداروں سے ملنے والے قرضے اور گرانٹس 1.97 ارب ڈالر رہے۔
مزید پڑھیں: روپے کی قدر میں مضبوطی، پاکستانی معیشت کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟
واضح رہے کہ گزشتہ روز یعنی بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھی گئی تھی، جہاں منافع سمیٹنے کے رجحان اور بڑے حصص میں بھاری فروخت کے باعث مارکیٹ منفی زون میں چلی گئی تھی۔
کے ایس ای 100 انڈیکس 1,588.52 پوائنٹس یعنی 0.84 فیصد کی کمی کے ساتھ 187,033.27 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، جس سے گزشتہ سیشن کے تمام فوائد ختم ہو گئے تھے۔

عالمی سطح پر جمعرات کو امریکی ڈالر مضبوط، سونا کمزور جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف سے متعلق دھمکیاں واپس لیتے ہوئے اتحادی ملک گرین لینڈ پر طاقت کے ذریعے قبضے کے امکان کو مسترد کردیا۔
ان بیانات کے بعد وال اسٹریٹ کے انڈیکسز میں تیزی آئی، ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 1.16 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا، جو گزشتہ 2 ماہ کا سب سے بڑا یومیہ اضافہ ہے، جبکہ یورپی فیوچرز میں ایشیائی اوقات میں 1.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مزید پڑھیں: ڈھانچہ جاتی اصلاحات، نجکاری اور ڈیجیٹائزیشن سے معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے، اسحاق ڈار
ڈالر کی مضبوطی کے باعث یورو کی قدر کم ہو کر 1.1676 ڈالر رہ گئی، جبکہ سونے کی قیمت میں تقریباً 100 ڈالر فی اونس کمی ہو کر 4,790 ڈالر رہ گئی، جو ریکارڈ سطح 4,887 ڈالر سے نیچے ہے۔
آسٹریلیا اور جاپان کے اسٹاک انڈیکسز میں بھی تقریباً ایک فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس تاریخ میں پہلی بار 5,000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا۔

صدر ٹرمپ نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے سے ملاقات کے بعد کہا کہ مغربی آرکٹک اتحادی گرین لینڈ سے متعلق ایک نیا معاہدہ کر سکتے ہیں، جو میزائل دفاعی نظام اور اہم معدنیات تک رسائی سے متعلق امریکی خواہشات کو پورا کرے گا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ادھر وال اسٹریٹ کا خوف ظاہر کرنے والا وی آئی ایکس انڈیکس نمایاں طور پر کم ہو گیا، جبکہ امریکی ٹریژریز میں دوبارہ خریداری دیکھی گئی۔
ٹوکیو میں ٹریڈنگ کے دوران 10 سالہ امریکی بانڈز کی پیداوار ایک بیسس پوائنٹ کم ہو کر 4.24 فیصد پر آ گئی، جبکہ نیویارک میں اس سے قبل 4 بیسس پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔













