بھارتی ریاست اوڈیشہ میں مبینہ طور پر بجرنگ دل کے کارکنوں کے ہاتھوں تشدد اور عوامی تذلیل کا نشانہ بننے والے ایک مسیحی پادری نے حملہ آوروں کو معاف کرنے کا اعلان کر دیا ہے، تاہم واقعے کے 2 ہفتے سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کسی گرفتاری نہ ہونے پر مقامی مسیحی برادری میں شدید خوف اور بے چینی پائی جاتی ہے۔
یہ واقعہ 4 جنوری کو پارجنگ گاؤں میں پیش آیا، جہاں پادری بپن بہاری نائک اپنے گھر میں اہلِ خانہ اور سات دیگر مسیحی خاندانوں کے افراد کے ساتھ دعائیہ اجتماع کر رہے تھے۔ اہلِ خانہ کے مطابق 40 سے زائد افراد پر مشتمل ایک ہجوم نے گھر پر دھاوا بول دیا اور شدید تشدد کیا۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت میں کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کو انتہا پسندوں کے حملوں کا سامنا
الزام ہے کہ پادری نائک کو لاٹھیوں سے مارا گیا، ان کے چہرے پر سرخ سندور مل دیا گیا، جوتوں کی مالا پہنائی گئی، گاؤں میں گھمایا گیا اور زبردستی گائے کا گوبر کھلایا گیا، جبکہ ان سے ‘جے شری رام’ کے نعرے لگوائے گئے۔
پادری کی اہلیہ وندنا نائک کے مطابق حملہ اچانک اور نہایت خوفناک تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کسی طرح بچوں کے ساتھ تنگ گلی سے نکل کر پولیس اسٹیشن پہنچنے میں کامیاب ہوئیں، جبکہ پولیس کو ہیلپ لائن پر اطلاع دینے کے باوجود کارروائی میں تاخیر کی گئی اور ایف آئی آر اور طبی ثبوت جیسی رسمی کارروائیوں کا مطالبہ کیا جاتا رہا۔
یہ بھی پڑھیے: انڈیا سے بغیر ایندھن جہاز اُڑا کر پاکستان لانے والے مسیحی پائلٹ
پادری بپن بہاری نائک نے ایک بیان میں کہا کہ انہیں بے دردی سے مارا گیا، ذلیل کیا گیا اور زبردستی ناپاک چیز کھلائی گئی، تاہم وہ خدا کے فضل سے زندہ ہیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ ان کے خاندان اور تمام مسیحی ماننے والوں کو امن کے ساتھ زندگی گزارنے اور اپنے عقیدے پر آزادانہ عمل کرنے کی اجازت دی جائے۔













