بنگلہ دیش نے ٹی 20 ورلڈ کپ کے میچز بھارت میں کرانے کے فیصلے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی غیر جانبداری پر سوال اٹھا دیا ہے اور سیکیورٹی خدشات کے باعث سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان سے متعلق سیکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، جبکہ بنگلہ دیش کے تحفظات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ، بنگلہ دیش نے اپنی کرکٹ ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اصولی فیصلہ کرلیا
بنگلہ دیش کے ثقافتی امور کے مشیر مصطفیٰ سرور فاروقی نے فیس بک پر جاری بیان میں کہا کہ آئی سی سی سیکیورٹی معاملات میں دوہرا معیار اپنائے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان سے متعلق سیکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، جبکہ بنگلہ دیش کے تحفظات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
مصطفیٰ سرور فاروقی نے بھارتی میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن میں افراد کو بنگلہ دیشی ہونے کے شبہے میں تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے خاص طور پر ایک ایسے مسلمان شخص کے قتل کا ذکر کیا جو مغربی بنگال میں پیدا ہوا تھا مگر بنگلہ دیشی سمجھ کر مارا گیا۔
دوسری جانب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے بھی آئی سی سی سے باضابطہ طور پر درخواست کی تھی کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کے میچز بھارت کے بجائے سری لنکا منتقل کیے جائیں۔ بورڈ کا مؤقف تھا کہ موجودہ حالات میں کھلاڑیوں، آفیشلز، شائقین اور صحافیوں کی سیکیورٹی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے بنگلہ دیش معجزے کی تلاش میں
تاہم آئی سی سی نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کوئی مخصوص سیکیورٹی خطرہ موجود نہیں اور بنگلہ دیش کو اپنے میچز بھارت ہی میں کھیلنے ہوں گے۔ اس فیصلے کے بعد بنگلہ دیشی حکومت اور کرکٹ بورڈ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
مصطفیٰ سرور فاروقی نے بھارتی سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بھی خدشات کا حوالہ دیا، جن میں ممبئی میں بنگلہ دیش اور بھارت کے میچ پر تحفظات شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت میں بنگلہ دیش مخالف نفرت انگیز مہم طویل عرصے سے جاری ہے، جس کا نتیجہ حال ہی میں بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالے جانے کی صورت میں سامنے آیا۔
فاروقی کے مطابق آئی سی سی کی جانب سے کرائے گئے اندرونی اور آزاد سیکیورٹی جائزوں میں بھی یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر بنگلہ دیشی ٹیم قومی رنگوں میں میدان میں اتری اور مستفیض الرحمان اسکواڈ کا حصہ رہے تو سیکیورٹی خطرہ درمیانے سے زیادہ سطح کا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان، شاہد آفریدی بول پڑے
ان کا کہنا تھا کہ اگر آئی سی سی خود کو واقعی ایک منصف اور غیر جانبدار عالمی ادارہ ثابت کرنا چاہتی ہے تو اسے بنگلہ دیش کے سیکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے میچز سری لنکا منتقل کرنے چاہئیں، کیونکہ اب غیر جانبداری ثابت کرنے کی ذمہ داری آئی سی سی پر عائد ہوتی ہے۔
اس سے قبل کھیلوں کے مشیر آصف نذرالاسلام نے بھی آئی سی سی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بنگلہ دیش کے تحفظات پر منصفانہ رویہ اختیار نہیں کیا گیا اور بھارتی حکومت کی جانب سے سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی قابلِ اعتماد یقین دہانی سامنے نہیں آئی۔
اس تنازع کے باعث یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش بھارت میں ٹی 20 ورلڈ کپ میچز کھیلنے سے انکار کر سکتا ہے، جس سے عالمی کرکٹ میں ایک بڑا تنازع جنم لے سکتا ہے۔














