یہ بھی پڑھیں: سندھ میں جمہوری دہشتگردی کو بند کیا جائے، ایم کیو ایم نے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ کردیا
مراد علی شاہ نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ نے پورے ملک کو غمگین کر دیا ہے، اس المناک آگ میں کئی معصوم افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ ہر طرف سوگ کی کیفیت ہے اور یہ ایسا سانحہ ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے شہدا کے بلند درجات، لواحقین کے لیے صبر اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
لاپتا افراد اور جاں بحق افراد کی تفصیلات
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ابتدا میں 88 افراد لاپتہ رپورٹ ہوئے تھے، جن میں سے ایک زندہ نکلا جبکہ 5 نام دہرانے کی وجہ سے فہرست سے نکالے گئے، یوں کل 82 تصدیق شدہ لاپتہ افراد تھے۔
1991 میں ایک میئر (فاروق ستار) گل پلازہ کی لیز منظور کرتا ہے اور پھر 2003 میں دوسرے میئر (نعمت اللہ خان) نے غیر قانونی کنسٹرکشن منظور کی، اس وقت نہ پیپلز پارٹی کی حکومت تھی نہ 18 ویں ترمیم تھی، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ@GorayaAftab @BeingSAOfficial pic.twitter.com/xhDizI0RSS
— Naeem Bukhari (@Naeem_shah86) January 23, 2026
انہوں نے کہا کہ اب تک 61 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں جبکہ 15 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ 61 لاشوں میں سے 9 کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے ہو چکی ہے اور مجموعی طور پر 15 افراد کی شناخت مکمل ہو گئی ہے۔ 45 لاشوں کے ڈی این اے نمونے لے لیے گئے ہیں جبکہ 9 کی شناخت ابھی باقی ہے۔
آگ لگنے اور ریسکیو کارروائی کی ٹائم لائن
مراد علی شاہ نے ایوان کو بتایا کہ آگ 10:14 پر گراؤنڈ فلور پر ایک دکان میں لگی۔ 10:26 پر پہلی ایمرجنسی کال موصول ہوئی اور 10:27 پر سول اسپتال فائر اسٹیشن سے پہلا فائر ٹینڈر روانہ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈبل ون ڈبل ٹو پر پہلی کال 10:36 پر آئی اور 10:37 پر گاڑی روانہ ہو گئی۔ آگ لگنے کے تقریباً 16 منٹ بعد ڈپٹی کمشنر اور پولیس موقع پر موجود تھی۔
گل پلازہ کا زرداری یا بھٹو خاندان سے کوئی تعلق نہیں
نجی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گل پلازہ کی عمارت کا ذوالفقار علی بھٹو یا آصف علی زرداری سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی یہ عمارت 1983 یا 1984 میں قائم کی گئی تھی۔ ان کے مطابق گل پلازہ کی تعمیر اور ریگولرائزیشن مختلف ادوار میں ہوئی۔
“گل پلازہ کی لیز 1991 میں اور غیر قانونی تعمیر 2003 میں منظور ہوئی — اُس وقت نہ پیپلز پارٹی کی حکومت تھی، نہ 18ویں ترمیم۔ حقیقت واضح ہے۔”
— وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ pic.twitter.com/8iaPXKLI7h— Mohammad Yousif PPP (@ppp_yousif) January 23, 2026
گل پلازہ کی لیز اور تعمیر کی تفصیلات
مراد علی شاہ نے بتایا کہ گل پلازہ کی ابتدائی لیز 1884 میں 99 سال کے لیے دی گئی تھی جو 1983 میں مکمل ہوئی۔ بعد ازاں 1991 میں 18 سال کے لیے نئی لیز دی گئی جو 2001 میں ختم ہو گئی، جبکہ 2001 میں ایک بار پھر لیز میں 18 سال کی توسیع کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ عمارت کی تعمیر مختلف مراحل میں ہوئی، ایک عمارت 1998 میں تعمیر ہوئی جسے باقاعدہ ریگولرائز کیا گیا جبکہ کچھ حصے 1991 میں بنائے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: 18ویں ترمیم کے وقت اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا، خواجہ آصف
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گل پلازہ کے سانحے کا ذمہ دار کسی ایک فرد یا سیاسی جماعت کو قرار دینا حقائق کے منافی ہے اور یہ تمام فیصلے 18ویں ترمیم سے پہلے کے ادوار میں کیے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ماضی کی بدانتظامی کے نتائج سے نمٹ رہی ہے۔
لواحقین اور تاجروں کے لیے امدادی پیکج
مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو فی کس 1 کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے گا۔ ہر دکاندار کو فوری طور پر 5 لاکھ روپے گزارا الاؤنس دیا جائے گا جبکہ کے سی سی آئی کے ذریعے سامان کے نقصان کا ازالہ بھی کیا جائے گا۔
متبادل دکانیں اور بلاسود قرضے
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ متاثرہ دکانداروں کو 2 ماہ کے اندر متبادل جگہ فراہم کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے 2 عمارتیں منتخب کی گئی ہیں، ایک میں 500 اور دوسری میں 350 دکانیں موجود ہیں، جبکہ مالکان نے ایک سال تک کرایہ نہ لینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ انٹرپرائز لمیٹڈ کے ذریعے ہر دکاندار کو 1 کروڑ روپے تک کا بلاسود قرضہ دیا جائے گا، جس کی ضمانت اور سود حکومت سندھ ادا کرے گی۔
سانحہ گل پلازہ جیسے سانحے کو اپنے سیاسی مقصد کے لیے استمعال کرنا جرم ہے، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ pic.twitter.com/Hfyy9KG5X1
— Sindh Information Department (@sindhinfodepart) January 23, 2026
مراد علی شاہ نے گل پلازہ کو گرانے اور اسی طرز پر دوبارہ تعمیر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تعمیر 2 سال میں مکمل کی جائے گی اور دکانوں کی تعداد موجودہ تعداد سے ایک بھی زیادہ نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں تمام عمارتوں کا آڈٹ شروع کر دیا گیا ہے اور اب تک 300 سے زائد عمارتوں کا جائزہ لیا جا چکا ہے۔ حفاظتی انتظامات نہ رکھنے والی عمارتوں کو مختصر وقت دیا جائے گا، بصورت دیگر سیل کر دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ آتشزدگی: کیا یہ شارٹ سرکٹ نہیں بلکہ بچوں کی کارستانی ہے؟
وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ سانحہ گل پلازہ کی ایف آئی آر درج کی جائے گی اور تمام ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہر مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی کھڑی رہے گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر صحت و ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے سندھ حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ 18ویں ترمیم ملک کے لیے ناسور بن چکی ہے، جس کا فائدہ اٹھا کر کراچی کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ 18ویں ترمیم کے نام پر جاری ڈراما بند کیا جائے اور بلدیاتی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے۔
’کراچی کو وفاق کے حوالے کیا جائے‘
مصطفیٰ کمال نے کہا تھا کہ 18 سال سے سندھ میں حکمرانی کے باوجود ہر سانحے کا الزام ایم کیو ایم پر ڈال دیا جاتا ہے۔ بلدیہ فیکٹری میں آگ کے واقعے کو آج بھی بطور جواز پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ موجودہ ایم کیو ایم اس طرزِ سیاست سے بہت آگے نکل چکی ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 148 اور 149 کے تحت کراچی کو فیڈرل ٹیریٹری قرار دیا جائے اور اسے پاکستان کا معاشی حب بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بعد میں بھی بن سکتے ہیں، مگر آج کے آئین میں رہتے ہوئے کراچی کو وفاق کے تحت لایا جا سکتا ہے، کراچی کو وفاق کے حوالے کیا جائے۔
’18ویں ترمیم کے وقت اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا‘
دوسری جانب وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ 18ویں ترمیم کے وقت اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے وقت سب سے نمایاں بات اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کا وعدہ تھا، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ اختیارات عملی طور پر کہاں منتقل ہوئے۔













