امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل کرنے کی دعوت واپس لے لی ہے، جس سے دونوں دیرینہ اتحادی ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ فیصلہ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کی جانب سے عالمی طاقتوں پر اقتصادی دباؤ کے خلاف حالیہ بیانات کے بعد سامنے آیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے جمعرات کی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ’بورڈ آف پیس‘ کینیڈا کی شمولیت کی دعوت واپس لے رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے وزیراعظم کارنی نے اس بورڈ میں شمولیت کے ارادے کا اظہار کیا تھا، تاہم مالی شرائط سمیت تفصیلات طے نہیں ہو سکی تھیں۔ مستقل رکنیت کے لیے ممالک کو ایک ارب ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے مخالف جے ڈی وینس کو اپنا نائب صدر کا امیدوار کیوں بنایا؟
سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہا تھا کہ دنیا کی ’درمیانی طاقتوں‘ کو بڑی طاقتوں کی اقتصادی جبر کی پالیسیوں کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی محصولات، مالی نظام اور سپلائی چینز کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
اگرچہ کارنی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم صدر ٹرمپ نے بعد ازاں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’کینیڈا امریکا کی بدولت قائم ہے‘ اور ایسے بیانات پر تنقید کی۔ اس سے قبل ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک ترمیم شدہ نقشہ بھی شیئر کیا تھا جس میں کینیڈا کو امریکی پرچم سے ڈھانپا گیا تھا۔
ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت میں امریکا اور کینیڈا کے تعلقات میں نمایاں سرد مہری دیکھی جا رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کینیڈا کو ’امریکا کی 51ویں ریاست‘ قرار دے چکے ہیں جبکہ تجارتی محصولات کے نفاذ نے بھی اختلافات کو گہرا کیا ہے۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ رکوانے کا ذکر چھیڑ دیا
واضح رہے کہ ’بورڈ آف پیس‘ کا تصور ابتدا میں غزہ کی تعمیرِ نو اور غیر عسکری نگرانی کے لیے پیش کیا گیا تھا، تاہم ٹرمپ اسے اقوام متحدہ کے متبادل عالمی فورم کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس پر کئی امریکی اتحادیوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ روس اور چین کو بھی اس بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے، جبکہ برطانیہ، جرمنی اور فرانس سمیت کئی مغربی ممالک نے اس منصوبے سے فاصلہ اختیار کیا ہے۔














