اسکول اب بچوں کو من پسند دکانوں سے خریداری پر مجبور نہیں کرسکیں گے کیوں کہ پنجاب حکومت نے نصابی کتب، اسکول یونیفارم اور دیگر تعلیمی سامان کی مخصوص دکانوں سے خریداری پر پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا نجی اسکولوں کی فیس کم کرنے کا فیصلہ، حقیقت کیا ہے؟
اس فیصلے کا مقصد والدین اور طلبا کو غیر ضروری مالی دباؤ سے بچانا اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب نے ایسے نجی اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے جو والدین کو مخصوص دکانوں، وینڈرز یا سروس پوائنٹس سے اشیا خریدنے پر مجبور کرتے ہیں۔
محکمے کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے مطابق کسی بھی نجی تعلیمی ادارے کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ والدین کو کسی خاص دکان یا وینڈر سے نصابی کتب، یونیفارم یا دیگر تعلیمی سامان خریدنے کا پابند بنائے۔
نوٹس میں کہا گیا کہ ایسا کرنا پنجاب پرائیوٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز آرڈیننس کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
مزید پڑھیے: پنجاب حکومت کی طرف سے قائم ملک کے پہلے سرکاری آٹزم اسکول میں داخلے شروع
محکمے نے یہ بھی واضح کیا کہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے نجی اسکولوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکام کے مطابق اگر کسی اسکول کی جانب سے اس قسم کے غیر قانونی اقدامات کی شکایت سامنے آئے تو والدین متعلقہ ایجوکیشن اتھارٹی یا وزیراعلیٰ شکایت سیل میں درخواست درج کرا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پنجاب اسمبلی میں اسکول لوکیٹر ایپ کیوں لگائی گئی؟
مزید برآں حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ والدین کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا اور موجودہ قوانین پر ہر صورت عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔














