پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کیے گئے 3 اہم بلز پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اعتراضات عائد کرتے ہوئے انہیں نظرِ ثانی کے لیے واپس بھیج دیا تھا، ان میں دانش اسکولز اتھارٹی بل 2025، گھریلو تشدد کی روک تھام کا بل 2025 اور نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس ایکٹ 2025 ترمیمی بل شامل ہیں۔
صدرِ مملکت کی جانب سے دانش اسکولز اتھارٹی بل 2025 پر اعتراض کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت کو اسلام آباد، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور بلوچستان سمیت مختلف علاقوں میں دانش اسکول قائم کرنے سے قبل متعلقہ صوبائی حکومتوں اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنا ضروری ہے، تعلیم سے متعلق قانون سازی میں صوبوں کی رائے کو شامل کیے بغیر آگے بڑھنا آئینی روح کے منافی ہو سکتا ہے، اس لیے بل پر مشاورت کے بعد اسے دوبارہ پیش کیا جائے۔
مزید پڑھیں: پارلیمنٹ میں ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ 2026 منظور، بیوی، بچوں اور گھر کے افراد کے تحفظ کو قانونی تحفظ حاصل
آج مشترکہ اجلاس میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے دانش اسکولز اتھارٹی بل کی شق 3 اور 4 میں ترامیم پیش کیں جو منظور کر لی گئیں، منظور شدہ ترامیم کے مطابق دانش اسکولز کے قیام کے لیے متعلقہ صوبائی اتھارٹی کی منظوری لازمی ہو گی۔
گھریلو تشدد کی روک تھام کے بل 2025 کے حوالے سے صدرِ مملکت نے اعتراض کرتے ہوئے اسے بعض شقوں میں مبہم قرار دیا تھا۔ صدر نے تجویز کردہ سزاؤں اور طریقۂ کار پر بھی تحفظات ظاہر کیے تھے اور کہا کہ بل کو موجودہ شکل میں منظور کرنے کے بجائے اس پر مزید غور کیا جائے تاکہ قانون میں ابہام ختم ہو اور اس کا مؤثر نفاذ ممکن بنایا جا سکے۔
آج مشترکہ اجلاس میں پیپلز پارٹی کی شرمیلا فاروقی نے ترمیم پیش کی جس پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے ترمیم کی حمایت کی اور کہا کہ مرد بھی اس قانون میں شامل کیے جائیں کیونکہ بہت سے مرد خاموشی سے گھریلو تشدد برداشت کرتے ہیں۔
جمعیت علمائےاسلام (ف) کی رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے بل میں ترامیم پیش کیں جن کی حمایت ان کے شوہر سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بھی کی، مگر ایوان نے عالیہ کامران کی ترامیم مسترد کر دیں بعد ازاں شرمیلا فاروقی کی ترامیم کے ساتھ بل منظور کر لیا۔
مزید پڑھیں: پارلیمنٹ کا سندھ حکومت سے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی فوری مدد کا مطالبہ
صدرِ مملکت نے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس ایکٹ 2025 میں ترمیمی بل پر بھی اعتراضات اٹھاتے ہوئے اسے نظرِ ثانی کے لیے واپس بھیجا تھا۔ یہ بل بھی سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد صدر کو بھیجا گیا تھا تاہم صدر کی جانب سے اس پر بھی دوبارہ غور کرنے کی ہدایت دی گئی۔
وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری صدر آصف علی زرداری کے اعتراضات دور کرنے کے بعد نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ 2025 پیش کیا، پیپلز پارٹی کی طرف سے پیش کردہ ایک ترمیم منظور ہوئی جبکہ جمعیت علمائے اسلام ف کے ترمیمی مسودے کو مسترد کر دیا گیا۔ بعد ازاں ایوان نے بل کو شق بہ شق منظور کرلیا۔













