حسن کیا ہے؟

ہفتہ 24 جنوری 2026
author image

شبیر سومرو

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عورت کا حسن اس کے چہرے اور جسمانی خدوخال کے تناسب سے ماپا جاتا ہے۔

مردانہ حسن کو مرد کی طاقت اور معاشرے میں اس کے مقام سے جانچا جاتا ہے۔

 اس سوال پر 2 مکتبہ فکر گزشتہ ڈھائی ہزار سال سے اپنی اپنی وضع کردہ تعریف و تشریح پر بضد ہیں۔ ایک کا خیال ہے کہ زاویوں کا اقلیدسی میل یا یکجائی اور متناسب ومتوازن خدوخال کی خوش نظر ترکیب و ترتیب، ’حسن‘ بن کر ظاہر ہوتی ہے جبکہ دوسروں کا نظریہ ہے کہ حسن کسی فن پارے یا فن کے اعلیٰ ترین شہکار کی طرح، دراصل اپنے اپنے ظرف نظر، ظن /گمان یا تخمینے اور پسند کی ’چیز‘ ہے جو ہر شخص کے لیے انفرادی نوعیت کا معاملہ ہوتا ہے۔ یہ ہر کلچر میں الگ الگ نوعیت سے سامنے آسکتا ہے۔ ایک چیز جو کسی کلچر میں بھونڈی اور بدوضعی کی حامل سمجھی جاتی ہے، وہی چیز کسی دوسرے کلچر میں حسین قرار پاسکتی ہے۔ جیسا کہ قدیم زمانے میں ہیلن آف ٹرائے کے حسن کے معیار کا پیمانہ یہ قرار پایا تھا کہ اس کے حسن میں اتنی کشش ہے کہ اس سے ایک ہزار بحری جہاز کھِنچے چلے آسکتے تھے جبکہ حالیہ دور کی حسین خاتون آنجہانی لیڈی ڈائنا کے حسن کی کشش کا بیان کرتے ہوئے اس معیار میں اتنی ترمیم کی گئی کہ لیڈی ڈائنا حسن سے ایک ہزار میگزین/جریدے کھِنچے چلے آتے تھے جو کہ اس کی تصویر اپنے سرورق پر چھاپنا چاہتے تھے!۔

حسن چاہے دیکھنے والے کی آنکھ میں ہو یا حاملِ حسن کی صورت میں، اس کی طاقت اور کشش سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔

مشہور پشتو شاعر خوشحال خان خٹک کہتے ہیں :

 ’تیرے حسن نے مجھ سفید داڑھی والے کو پاگل کردیا ہے، خبر نہیں کہ جوانوں پر کیا گزری ہوگی؟‘

 ڈاکٹر زواگو جیسے خوبصورت ناول کے خالق بورس پیسٹرنک کا نظریہ حسن یہ تھا کہ آرٹ ہمیشہ حسن کی خدمت کرتا ہے، حسن وجودی اعتبار سے ایک مسرت ہے اور  وجود  فطری کلیدِ زندگی ہے۔

لندن کے یونیورسٹی کالج اسپتال کے ڈاکٹر الفریڈلینی، حسن کا پیمانہ مقرر کرنے کے لیے کئی برسوں سے دنیا کی ٹاپ ماڈلز کے چہروں کے خدوخال کی لیزر کے ذریعے باریک ’ناپ تول‘ کرتےرہے ہیں۔ اس تحقیق کے ابتدائی نتائج میں ڈاکٹر الفریڈ اور ان کی ٹیم نے قرار دیا کہ حسن کے حامل کسی ’معیاری چہرے‘ جیسی کوئی چیز وجودنہیں رکھتی!۔

 یعنی ان کو اب تک کوئی ایسا چہرہ نہیں ملا، جس کے خدوخال کو معیار قرار دے کر، وہ حسن کا کوئی پیمانہ مقرر کریں اور مثال بناکر پیش کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح عام لوگوں کے چہرے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح دنیا کی خوبصورت ترین ماڈلز کے چہرے بھی ایک دوسرے سے ہر لحاظ سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ ان کے مابین حسن کی کوئی ایک قدر، حتمی طور پرمشترکہ قرار نہیں دی جاسکتی۔ چہرے کے خدوخال کاسائز، دانتوں کی بناوٹ، ناک، ہونٹ، آنکھیں مطلب کہ کوئی ایک چیز بھی کسی دوسرے چہرے کی اسی چیز سے میل نہیں کھاتی۔ ہرایک کی چیز اپنی جگہ پر منفرد ہے۔

ڈاکٹر الفریڈ کے ایک ساتھی محقق مارک لووی کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ کچھ مشہور ماڈلز کے چہروںکے خدوخال ایسے ’غیر معیاری‘ ہوتے ہیں کہ اگر وہ فیچرز’عام‘چہروں پر ’واقع‘ ہوں تو ان کی سرجری کرکے ہی ان کو قابل قبول بنایا جاسکتا ہے!۔ کافی ٹاپ ماڈلز کے دانت تو ڈریکولا کی طرح بڑے بڑے ہیں۔ ان کے دانت 8ملی میٹر تک بھی دیکھے گئے ہیں۔ مگر کیا کیا جائے کہ وہ چہرے بھی پوری دنیا میں قبولِ عام اور ’حسناک‘ (بروزن: خطرناک یعنی خطرناک طور پر حسین) قرار دیے جاچکے ہیں اور اگر ان کو سرجری سے ’سدھارا‘ جائے تو وہ ’بدصورت‘ لگنے لگیں گے۔

اس تحقیق میں قرار دیا گیا ہے کہ حسن کا معیار اتنا سخت نہیں ہونا چاہیے، جیسا کہ پہلے سے سمجھا جاتا رہا ہے۔ مردانہ حسن کو مرد کی طاقت اور معاشرے میں اس کے مقام سے جانچا جاتا ہے جب کہ عورت کا حسن اس کے چہرے اور جسمانی خدوخال کے تناسب سے ماپا جاتا ہے اور یہ معیار یونانی دیومالا سے اخذ کیا گیا ہے۔

ایک اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ جب عورت معاشی قوت کی مالک بن جاتی ہے تو وہ مرد کو بجائے طاقتور کے خوبصورت دیکھنا چاہتی ہے۔ اگر اس کے ’مقبوضہ‘ یا پسندیدہ مرد کے ’حسن‘ میں کوئی کمی ہو تو اسے بنائو سنگھار کرکے یہ کمی پوری کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس حوالے سےنائیجیریا کی Wodabeesعورتوں کی مثال پیش کی جاسکتی ہے جو اپنے قبیلے میں معاشی سرگرمیوں پر حاوی ہوتی ہیں اور ان کے بجائے ان کے مرد گھروں میں بچے سنبھالنے، کھانا پکانے، صفائی کرنے اور اپنی بیویوں کے احکامات بجا لاتے ہوئے، ان کی خدمت کرنے جیسے زنانہ کام کرتے ہیں۔ ان کی عورتیں ان کے لیے بالکل اسی طرح کپڑے، گہنے اور بنائو سنگھار کا سامان لاتی ہیں، جیسے ہمارے معاشرے میں مرد اپنی عورتوں کےلیے لاتے ہیں۔ Wodabee قبیلے میں عورتوں کے بجائے مردوں کا مقابلہِ حسن منعقد ہوتا ہے اور عورتیں تماشائی ہونے کے ساتھ ساتھ جج بھی ہوتی ہیں جوکہ مردوں میں سے ’شاہِ حُسن‘ منتخب کرتی ہیں۔

ماہرین کی اس تحقیق کے مطابق چونکہ کوئی بھی آئیڈیل خوبصورت چہرہ اب تک سامنے نہیں آیا، اس لیے کئی عام چہروں کے معیاری اجزا یکجا کرکے ایک حسین ترین چہرہ ’تیار‘ کیا جاسکتا ہے۔

اس طرح اس دور کے خوبصورت ترین سفر ناموں کے تخلیق کار مستنصر حسین تارڑ، جنھیں ان کی حسن پرستی کے طفیل مستنصر’حَسِین‘ تارڑ کہنا چاہیے، انہیں مسجد قرطبہ(اندلس) کے ستواں، نازک ونفیس ستون اور ان پر متوازن کھڑی، دائرہ نما محرابیں حسن کی معراج لگتی ہیں۔

کچھ فلسفیوں نے فیثا غورث مکتبہ فکر کے نظریہ حسن کو نامکمل قرار دیتے ہوئے رائے دی ہے کہ کسی خوبصورت چیز، چہرے، منظر، عمارت یا قدرتی مظہر کو صرف اس بنا پر خوبصورت یا ’حسناک‘ قرار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ متوازن یا متناسب ہے۔۔۔ یا پھر وہ تناسب کے حساب سے مصدّقہ ہے۔ فرانسس بیکن نے اس رائے کی تائید کرتے ہوئے قرار دیا :

’ایسا کوئی حسن ہوہی نہیں سکتا، جس کے تناسب میں کوئی انفرادیت نہ ہو‘۔

یعنی بیکن حسن کی یکتائی اس میں دیکھتا ہے کہ اگر وہ ’ذرا ہٹ کے‘ قسم کی چیز ہو، تبھی حسین ہوگی!۔ حالانکہ اس تعریف میں خود تجرید کا عنصرپایا جاتا ہے۔

 خوبصورت چیزیں بدوضع بھی ہوسکتی ہیں ۔۔۔ یا وہ ریاضی کے کسی اصولِ تناسب پر پوری نہ اترتی ہوں، تب بھی وہ حسن کی حامل ہوسکتی ہیں ۔اس خیال کے حامی فلاسفر حضرات اپنی بات کومنوانے کے لیے سوئٹزرلینڈ کی پہاڑی چوٹی میٹر ہارن کا نام لیتے ہیں، جس کے ’حلیے‘ میں کہیں بھی تناسب یا توازن نہیں ہے اور نہ ہی اس کے ’خدوخال‘ دونوں جانب سے ایک دوسرے سے متّشکل ہیںلیکن پھر بھی اس کی برف پوش ’اداؤں‘ کو دیکھ کر سیاحوں کا سانس رکنے کو آتا ہے۔

فیثا غورث کے نظریہِ حسن سے اختلاف رکھنے والے آخری دلیل یہ دیتے ہیں کہ اگر کوئی Objectتناسب کے کسی معیار پر پورا اترتا ہے تو اس کا ہر گز ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ خوبصورت یا خوش وضع ہے۔ اس کی صرف اس اہلیت کے باعث اس کی توصیف نہیں کی جاسکتی۔ اگر فیثا غورث کے نظریہِ حسن کے مطابق کوئی Objectاگر متناسب ہونے کے باوصف خوبصورت ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کو چاہا جائے، اس کی تعریف وتوصیف کی جائے یا اسے رہتی دنیا تک باقی رکھا جائے۔ ایسی متناسب ومتوازن (خوبصورت) اشیا اگر آج کے کمرشل معیار کے مطابق ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنیں گی تو ان کو نیست ونابود کرکے نئے صنم تراشے جاسکتے ہیں کیوںکہ ہر زمانے میں حسن کا معیار بدلتا رہتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نظریات بھی۔ اس لیے ضروری نہیں ہے کہ 21ویں صدی کا انسان قبل مسیح کی چھٹی صدی میں قائم ہونے والے نظریے سے چمٹا رہے ۔

 پرتگال کے شاعر فرینیڈو پیسو آنے1914ء میں ایک نظم لکھی،جس کا آزاد ترجمہ اس طرح ہے :

         ’حسن کیا ایک پھول ہی میں ہے ؟

          یا پھر پھلوں میں بھی حسن ہوتا ہے ؟

          نہیں:ان کے پاس تو رنگ ،خوش وضعی اور وجود ہوتا ہے

          حسن اس کا نام ہے

          جو وجود سے ماورا ہوتا ہے

          حسن تو میں اشیاء کو دیتا ہوں

          جب وہ مجھے لطف عطا کرتی ہیں

          تو شکرانے کے طور پر

          میں انھیں حسن سے نوازتا ہوں‘۔

ڈیوڈ ہیوم کہتے ہیں کہ رنگ اور ذائقے دراصل ان اشیا کے اندر نہیں پائے جاتے بلکہ یہ حسیات (Senses)میں ہوتے ہیں۔ اگر حسیات100 فیصد درست اور صحتمند ہوں تو رنگ اور ذائقے (یا د وسرے لفظوں میں Objectsمیں چھپاان کا حسن) ہمارے من کی اصل مرضی کے مطابق نتائج دیں گے۔ اسی طرح حسن بھی رنگ کی طرح ہی ہے، اگر رو شنی (فطرت کا ایک طاقتور مظہر) موجود ہوتو ہمیں اشیاء کا حسن (یا قبح؟) نظر آنے لگتا ہے اور ہمارا ذہن اس حقیقت کو قبول کرنے لگتا ہے کہ حسن موجود ہے۔ یعنی یہ دیکھنے والے کی حس بصارت کا کمال ہوا، نہ کہ چیز کے اندر موجود حسن کا۔ تاریکی میں چونکہ اشیا کی وضع قطع نظر نہیں آتی، اس لیے ان کا متوازن اور متناسب ہونا بھی نظر نہیں آتا۔ اس وقت اگر کوئی پیمانہ لے کر ان کی پیمائش بھی کرلے، تب بھی ان کا حسن اجاگر نہیں ہوسکتا، جب تک کہ روشنی میں ہماری بصارت اس کی تصدیق نہ کرے۔ اس طرح حسن کو ریاضی کی مساواتوں سے پرکھنا بھی، حسن سے ہٹ کر قدرت کے ایک اور مظہر یعنی روشنی کے باعث ممکن ہوتاہے۔ یوں حسن کے فریب نظر ہونے میں کیا شک رہ جاتا ہے؟۔

ڈیوڈ ہیوم کے اس نظریہ حسن کی جڑیں بظاہر چھٹی صدی قبل مسیح کی یونانی شاعرہ سیفو کی ایک مختصر نظم سے پھوٹتی نظر آتی ہیں، جس نے ایک سچے دوست کی قربت میں ظاہر ہونے والے حسن کو پوری دنیا کے اقتدار پر ترجیح دی ہے۔ سیفو کے مطابق ہر شخص کے اندر حسن کا  احساس، اس کی تعریف اور اس سے تعلق، انفرادی نوعیت کا حامل ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ حسن ہر شخص کے ذاتی احساس(یا حسیات!)میں پوشیدہ ہوتا ہے۔

فلسفی کانٹ اس بات کو قبول نہیں کرتے کہ حسن دراصل دیکھنے والے کی حسیات میں ہوتا ہے اور دیکھنے والا ہی ایک Objectکا حسن دیکھ کر اس کی توصیف کرتا ہے۔ کانٹ کا کہنا ہے :

 ’اگر کوئی چیز واقعتاً خوبصورت ہے تو وہ تعریف وتوصیف کی مستحق ہے اور ہم اس کی تعریف کرنے میں حق بجانب ہوتے ہیں۔ اگر ہماری حسیّات یا ذہن کے اندر کسی شے کا حسن وقبح پرکھنے کا کوئی پیمانہ موجود ہے تو اس کا مطلب یہ کیسے ہوگیا کہ وہ شے اپنے جوہر میں حسن کی حامل نہیں ہے؟۔ اگر کوئی مظہر موجود ہی نہ ہو تو اس کو پرکھنا کیا معنی رکھتا ہے؟‘۔

اس تنقیدی بحث سے نتیجہ جو بھی نکلتا ہو مگر یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ حسن کا مشاہدہ ہمیں اندر سے لطف دیتا ہے اور حسن رنگوں ہی کی طرح جب ہمارے سامنے جلوہ نما ہوتا ہے تو ہمیں پتا چل جاتا ہے کہ ہم اس سے متاثر ہورہے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں ریاضی کی مساواتوں یا پیمانوں سے کام لینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

حسن کو اشیا یا مظاہر تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ نہ ہی یہ طے کیا جاسکتا ہے کہ کون سی چیز بدصورت ہے اور کون سی چیز خوبصورت ہے؟۔ دنیا میں یہ دونوں جوہر ساتھ ساتھ چل رہے ہیںاور کوئی خوبصورتی زمان ومکان کے فرق سے بدصورتی بھی قرار پاسکتی ہے۔ اگر میر تقی میر گلاب کی پنکھڑی جیسے لبوں کو خوبصورت سمجھ سکتے ہیں تو تاریک افریقا کے کسی قبیلے کا شاعر موٹے بلکہ ایسے لمبے چوڑے ہونٹوں کو حسن کا معیار قرار دے سکتا ہے!۔

اگر ہم کسی خاص چیز کا حسن ثابت نہیں کرسکتے تو دوسری جانب اس کی بدصورتی کو بھی ثابت کرنا آسان نہیں ہوسکتا۔اس لحاظ سے یہ بیان جاری کیا جاسکتا ہے کہ حسن سے متعلق نظریات ابھی تک متنازعہ ہیں اور ابھی دنیا میں وہ حتمی نظریہِ حسن آنا باقی ہے جو سب سوالوں کا تسلی بخش جواب ثابت ہوسکے ۔

کہتے ہیں کہ اب ہمارا اتنا حسن سے واسطہ نہیں پڑتا، جتنا اس کے الٹ مظہر ’قبح‘ سے پڑتا ہے۔ انسانی حسن سے لے کر مظاہرِ قدرت تک اب اتنے حسین وجمیل نہیں رہے۔ اس کی بنیادی وجہ گھوم پھرکر معاشی بدحالی اور مالی بدعنوانی بنتی ہے۔ پہلے خالص خوراک، پاکیزہ خیالات اور معاشرتی اخلاقیات کسی بھی شخص (خاتون یا لڑکی کہہ لیں) کے چہرے پر حسن بن کر جھلکتے تھے۔ اب ان تینوں چیزوں پر ایسی زد پڑی ہے کہ نہ خوراک خالص ہیں، اخلاقی بگاڑ سے نہ پاکیزہ خیالات رہے ہیں اور عمومی بے راہ روی اور بدعنوانی سے اخلاقیات بھی اچھی نہیں رہی۔ اس سے نہ صرف صورتوں کا حسن گہنا گیا ہے بلکہ معاشرے کی عام تصویر بھی تجریدی بن چکی ہے ۔ شہروں کے چہرے بدنما ہوچکے ہیں۔ سبزہ وگل کم کم ہوچکے ہیں، پارکوں کی جگہیں پلاٹس کو الاٹ کرکے، ماچس کے کھوکھوں جیسی سپاٹ، چوکور عمارتیں کھڑی کردی گئی ہیں۔ شہروں کا گندا مواد نکالنے کے لیے بنائے گئے نالے بھی مقبوضہ ہوکر بیکار ہوچکے ہیں۔ اس سے شہروں کا گند، شہروں ہی میں بہتا، پھیلتا رہتا رہتا ہے اور حسِ جمالیات کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے ۔

ایسے ماحول میںمتناسب خدوخال چہرے کو حسن کا حامل بناکر دیکھنے والوں کو لطف دینے کا باعث بنتے ہیں ۔ مگر شہروں کی زندگی میں ڈپریشن، ذہنی تناؤ اور معاشی دباؤ نے ایسے لوگوں کے چہروں پر بھی بداثرات ڈال کر نقوش کا باہمی تناسب بگاڑدیا ہے۔ کھنچاؤ کی لکیریں، چڑھی ہوئی تیوریاں، پریشانی کے آثار، آنکھوں کے گوشوں کے پاس کوّے کے پنجوں جیسی لکیریں، تنائو سے چڑھے ہوئے ہونٹ، بے خوابی کے باعث آنکھوں کے نیچے حلقے اور غذائی عدم توازن سے جِلدی خرابیاں بھی حسین ترین چہروں کو بگاڑرہی ہیں۔

حسن سے متعلق ڈکشنری اور لغت کیا کہتی ہے ؟

آکسفورڈ انگلش اردو ڈکشنری:

Beauty/bju:ti/n(pl-ies)

حسن،جمال،روپ اور وہ خصوصیات جو ذوق ِ جمال،خصوصاً نظر کو لبھائیں۔

اردو لغت بورڈ کی شائع کردہ 22جلدوں والی لغت کی آٹھویں جلد میں ’ح‘ کی ردیف میں لفظ ’حسن‘ کے معنی یوں ہے:

 حسن:خوبصورتی،جمال…زیبا، موزوںصورتحال، سلیقہ، عمدگی، خوبی، پھبن، لطافت۔

اسی میں آگے چل کر ’حسن ِمطلق‘ کی تشریح کی گئی ہے، جس کے معنی خالص وکامل حسن بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسا حسن، جس میں اضافے یا تخفیف ممکن نہ ہو۔

یوں حسن کی تشریح کا سفر اس کے بعد بھی جاری رہے گا اور اس کی تشریح بھی جاری رہے گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بیرون ملک پاکستانیوں کے روزگار، فلاحی مسائل اور کمیونٹی ویلفیئر اتاشیز کی کارکردگی کا جائزہ

پاکستان نے 2 سال کے لیے اقتصادی تعاون تنظیم کی چیئرمین شپ سنبھال لی

دہشتگرد وادی تیراہ میں موجود، کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں کی جائےگی، مشیر وزیراعظم رانا ثنااللہ

یونان میں دنیا کے قدیم ترین لکڑی کے اوزار دریافت، لاکھوں سال محفوظ رہنے پر سائنسدان حیران

بلوچستان حکومت کا بڑا انتظامی فیصلہ، محکمہ مذہبی امور تحلیل کرنے کی منظوری

ویڈیو

پروپیگنڈا ناکام، منہ توڑ جواب میں ہوش اڑا دینے والے ثبوت آگئے

22 لاکھ کی گاڑی کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے کی نمبر پلیٹ، پشاور میں نیا کارنامہ

گوادر: چائے کی خوشبو میں لپٹی خواتین کی خود مختاری، 3 پڑھی لکھی سہیلیوں کا کارنامہ

کالم / تجزیہ

ایک تھا ونڈر بوائے

کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی

نظر نہ آنے والے ہتھیاروں سے کیسے بچاؤ کیا جائے؟