ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ کی صورتحال کے پیشِ نظر برطانیہ نے قطر میں 4 ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کر دیے ہیں۔ برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ اقدام خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور خطے میں ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ کی جانب ایک بڑا بحری بیڑا روانہ کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا اپنے سکیورٹی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ، پاکستان کا ضبط، ذمہ داری اور مذاکرات پر زور
اس سے قبل صدر ٹرمپ یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ امریکا ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم اگر ایران نے اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔
دوسری جانب ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے ایران کے حق میں اصولی مؤقف اپنانے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران مخالف قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔
ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی قیادت میں پاکستان نے اصولی، جرات مندانہ اور قابلِ تحسین کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق غیر منصفانہ قرارداد پر ووٹنگ کا مطالبہ کرنا پاکستان کے مضبوط مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا سے معاہدہ کرنے کے لیے ’بے تاب‘ ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف سیاسی اور بے بنیاد اقدامات کو مسلسل تیسری بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ 12 روزہ جارحیت، بیرونی حمایت یافتہ ہنگامے اور عالمی اداروں کے غلط استعمال کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حمایت انصاف، انسانی حقوق، کثیرالجہتی نظام اور قومی خودمختاری سے وابستگی کی عکاس ہے اور ایران اس مستقل اور اصولی حمایت کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے یاد رکھے گا۔












